• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 62346

    عنوان: جمہوریت کا اسلامی تصور کیا ہے؟

    سوال: جمہوریت کا اسلامی تصور کیا ہے؟

    جواب نمبر: 62346

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 120-151/Sn=3/1437-U آج کل ”اصطلاحی جمہوریت“ میں کچھ چیزیں تو ایسی ہیں جو اسلام کے بالکل خلاف ہیں، مثلاً عوام کے اقتدار اعلیٰ کا تصور، اسمبلیوں اور پارلیامینٹوں کے ممبران کا خدائی احکام کی پابندی کے بغیر خود مختار ’واضع قانون“ ہونا اور امیدوار حکومت کا از خود اقتدار طلب کرنا، اسی طرح لوگوں کی قابلیت اور صلاحیت سے قطع نظر مطلق اکثریت کو معیار بنانا (جس میں ایک ان پڑھ، جاہل اور ایک پڑھا لکھا مدبر، عالم فاضل یہاں تک کہ صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم سب کی رائے کو برابر کا درجہ دیا جاتا ہے) بھی اسلامی اصولوں کے خلاف ہے؛ لیکن ”جمہوریت“ میں بہت سی باتیں اسلام کے مطابق بھی ہیں یعنی شورائی حکومت، تقسیم اختیارات، آزادئ اظہار رائے اور عوام کے سامنے حکومت کا جواب دہ ہونا وغیرہ، عرف عام میں یہی باتیں ”جمہوریت“ کی بنیاد سمجھی جاتی ہیں؛ لہٰذا اگر اول الذکر خلافِ اسلام باتوں کی اصلاح کرلی جائے مثلاً علی الاطلاق کثرتِ رائے کا اعتبار کرنے کے بہ جائے ایسے لوگوں کی کثرتِ رائے کا اعتبار کیا جائے جو معاشرے میں بہ حیثیت مجموعی بابصیرت امانت دار اور قابل ہوں، اور انھیں صرف مباح اور مجتہد فیہ امور میں فیصلے کا حق ہو، اسی طرح کچھ دیگر اصلاحات کرلی جائیں تو جمہوریت اسلام سے قریب ہوجائے گی؛ بلکہ اسے ”اسلامی جمہوریت“ بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیں ”ہمارا معاشی نظام“ (۸۳ تا ۸۸)، ”کثرت رائے کا فیصلہ شریعت کی نظر میں“، ”شوریٰ کی شرعی حیثیت“، اسلام اور سیاسی نظریات“۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند