• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 61968

    عنوان: بسااوقات مدرسے سے طلبہ فرار ھو جاتے ھیں ۔ اور سامان(بستر پیٹی پیسے وغیرہ) چھوڑ جاتے ہیں۔ تو کیا حکم ھے انکے پیسوں کا۔ کہ مہینوں لینے نہیں آتے ۔ کیا کیا جائے؟

    سوال: میں ایک مدرسے کا مہتمم ہوں،مجھے ایک ضروری مسٴلہ دریافت کرنا ھے ۔ بسااوقات مدرسے سے طلبہ فرار ھو جاتے ھیں ۔ اور سامان(بستر پیٹی پیسے وغیرہ) چھوڑ جاتے ہیں۔ تو کیا حکم ھے انکے پیسوں کا۔ کہ مہینوں لینے نہیں آتے ۔ کیا کیا جائے؟

    جواب نمبر: 61968

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 41-56/H=1/1437-U طلبہ کے تو پورے پتے لکھے ہوئے ہوتے ہیں ان طلبہ یا ان کے والد یا دیگر اعزہ کو خط لکھ دیا یا فون کردیا کریں کہ اپنا یا اپنے بیٹے کا سامان لے جائیے یا کسی آتے جاتے معتمد علیہ آدمی کے ہاتھ آپ پہنچادیا کریں، الغرض وہ سامان اُس طالب علم یا اُس کے والد، بھائی، چچا وغیرہ میں سے کسی کے پاس بھجوادیا کریں، یہی حکم پیسوں کا بھی ہے بلکہ پیسوں میں تو یہ سہولت ہے کہ منی آرڈر یا مناسب ذرائع میں سے کسی کو اختیار کرکے بھیج دیا کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند