• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 61881

    عنوان: مسجد کی جگہ پر بینک کا اے ٹی ایم اور کرایہ کی رقم مسجد کے مصرف میں استعمال کرنا۔

    سوال: ایک مسجد ٹرسٹ کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے ۔ ایک بلڈر نے مسجد کی جگہ ایک دکان کا کمرہ بنایا ہے اور مسجد کے حوالے کیا ہے جسے بینک والے اے ٹی ایم کے لیے کرایہ پر لینا چاہتے ہیں۔ اور کرایہ بھی اچھا دے رہے ہیں۔ کمرہ مسجد کے نام پر نہ ہونے کی وجہ سے معاہدہ بلڈر کے ساتھ کیا جارہا ہے ۔ لیکن بلڈر اس رقم کو مسجد کے مصرف میں دے گا۔ کیا ایسی صورت میں جب کہ مسجد ٹرسٹ کی آمدنی کے ذرائع محدود ہیں ۔ اور بینک سے کرایہ بھی اچھا خاصہ مل رہا ہے ۔ جبکہ اے ٹی ایم کو لوگ رقم نکالنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مسجد کے لیے اس سے حاصل ہونے والا کرایہ وصول کرنا جائز ہوگا یا نہیں۔ آپ سے مودبانہ درخواست ہے کہ تفصیلی جواب شرعی روشنی میں دیں تاکہ مسجد کے دیگر ذمہ داران کو تفصیل سے اس مسئلہ کی وضاحت کی جاسکے ۔

    جواب نمبر: 61881

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 750-750/M=8/1437 صورت مسئولہ میں مسجد کی جگہ اے ٹی ایم کے لیے کرایہ پر دینے اور کرایہ مسجد کی ضروریات میں لگانے کی گنجائش ہے، تاہم احتیاط اولیٰ ہے یعنی بینک والے کو نہ دینا بہتر ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند