• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 61244

    عنوان: صرف بیٹے كا تعاون كرنا

    سوال: میری دو بیٹیاں اور ایک بیٹاہے، تینوں بچے شادی شدہ ہیں، میں اپنے بیٹے کے ساتھ رہتی ہوں، میرا بیٹیا نوکری پیشہ ہے، وہ اس کی بندھی ہوئی آمدنی سے گھر کے اور میرے اخراجات پورے کرتا ہے ،اس کی دو بیٹیاں ہیں ،میرے نام پر گھر ہے اور اس کے علاوہ میرے پاس کچھ سامان ہیں جس کی کل قیمت تقریبا ً ساٹھ روپئے ہے، میرے گھر کی تعمیر میں اور ا سے میرے آرام کے لائق بنانے میں میرے بیٹے نے قرض لیا اور اپنے پیسے لگائے ، کل پندرہ روپئے ۔ میں اپنے بیٹے کی مالی طور سے مدد کرنا چاہتی ہوں، اس کے اوپر میری ذمہ داری کے علاوہ بیٹیوں کی تعلیم اور شادی کی ذمہ داریاں ہیں۔ میری خواہش ہے کہ : (۱)ا پنے بیٹے کو پندر روپئے جو اس نے گھر کی تعمیر میں خرچ کئے تھے دیدوں؟ (۲)اپنی پوتیوں(بیٹے کی بیٹیوں) کو تیس روپئے دوں؟ مہربانی کرکے شریعت کی روشنی میں ایسا کرنے کا طریقہ بتائیں۔ جزاک اللہ خیرا

    جواب نمبر: 61244

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1054-1039/N=12/1436-U صورت مسئولہ میں آپ کے بیٹے نے آپ کے مملوکہ مکان میں اپنے ذاتی پیسوں سے یا قرض لے کر جو تعمیری کام کرایا، اگر یہ کسی معاہدہ کے بغیر کیا ہے تو یہ اس کی جانب سے تبرع ہے، آپ پر اپنے بیٹے کو اس کا عوض دینا لازم وضروری نہیں، البتہ اگر آپ اپنی مرضی وخوشی سے کچھ دیدیں تو جائز ہے؛ کیوں کہ اس نے آپ کے ساتھ احسان کیا ہے، نیزآپ کے اخراجات وہی پرے کرتا ہے، ویسے وہ بھی آپ کے مکان میں اپنی فیملی کے ساتھ رہائش پذیر ہے۔ اور آپ اس کی دونوں بچیوں کو جو تیس روپے دینا چاہ رہی ہیں جب کہ آپ اپنی بیٹیوں کو اور ان کے بچوں کو کچھ نہیں دے رہی ہیں، یہ بظاہر مناسب معلوم نہیں ہوتا، آپ اس موقع پر اپنی بیٹیوں کو یا ان کی اولاد کو بھی مناسب مقدار میں دیں، ان کو محروم نہ کریں۔ اور اگر آپ کی بیٹیاں معاشی اعتبار سے بھائی سے زیادہ مضبوط وبہتر ہیں یا وہ آپ کے اس عمل سے راضی ہیں تو اس صورت میں قصداً اِضرار کے بغیر صرف پوتیوں کو دینے میں کچھ حرج نہ ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند