• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 610025

    عنوان:

    یابدوح كا وظیفہ پڑھنا كیسا ہے؟

    سوال:

    "اقسمت علیکم عليقا مليقا طالبقا خاليقا مخلوقا كافيا شافعا ارتضى مرتضى بحق یا بدوح"اس عبارت کا اردو ترجمہ اور بطور جنّات اور جادو لے علاج کے لئے پڑھنا کیسا ہے جائز ہے یا نہیں ؟ اور یا بدوح پڑھنا کیسا ہے؟ چونکہ حضرت حکیم الاممات نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ مجھے اس لفظ کے بارے میں کوئی تحقیق نہیں اور بلا تحقیق پڑھنا جائز نہیں سمجھتا تو میرا سوال ہے کیا آپ لوگوں کے پاس اس کے جائز ہونے کی کوئی مضبوط دلیل ہے بارے کرم رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 610025

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 684-332/TB-Mulhaqa=7/1443

     قریب كے كسی دینی مدرسے میں جاكر‏، كسی اچھے عربی مدرس سے اس عبارت كا ترجمہ معلوم كرلیں اور جس كتاب میں آپ نے یہ عبارت دیكھی ہے‏، وہ بھی ساتھ لے جائیں‏، سوال میں لكھی عبارت میں غالبا كچھ غلطی واقع ہوئی ہے۔ رہی ’’یابدوح‘‘ پڑھنےكی بات تو حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب ؒ نے امداد المفتین(ص:215‏، كتاب الذكر والدعا والتعویذات‏، مطبوعہ: كراچی) میں تحریر فرمایا :   تحقیق یہ ہے كہ یہ عربی زبان كا لفظ نہیں ؛بلكہ عبرانی میں اللہ تعالی كا نام ہے اور اگر عربی قرار دیا جائے تو اس كے معنی عاجز كرنے والے كے ہیں‏،بہرحال خدا كا نام ہونا ثابت ہے‏، تو یا بدوح كا وظیفہ بلاتامل جائز ہے‏انتہی بلفظہ۔ حضرت مفتی صاحب نے عبرانی زبان والی بات پر حاشیہ لگا كر تحریر فرمایا: ہكذا أفادہ شیخنا العلامۃ مولانا محمد أنور شاہ الكشمیری قدس سرہ۔ حاصل یہ ہے كہ فی نفسہ ’’یا بدوح‘‘ پڑھنے كی گنجائش ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند