• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 609503

    عنوان:

    امام ومؤذن کو برا بھلا کہنا

    سوال:

    حضرت، ۱)سوال یہ ہے کہ موجودہ دور میں امام اور مؤذن کی تنخواہ اسلام کے مطابق کتنی ہو ی چاہئے؟

    ۲)مزید یہ کہ اگر کوئی شخص امام اور مؤذن کی تنخواہوں میں کمی کو لیکر کوئی مضمون یا کوئی بات کہے کہ جس سے متولیان یا دوسرے ذمہ دار لوگوں کو حس پیدا ہویا ان کے ضمیر کو ملامت ہو اور وہ اس کے بارے میں کچھ سوچیں،تو ایسے تحریر لکھنے والے یا بات کہنے والے کو کسی شخص کا بھکاری یا بھیک مانگنے والا کہنا،یا وہ امام جو تنخواہ میں زیادتی کا مطالبہ کریں ان کو یہ کہنا کہ وہ متولیان کے پیسہ پر نظر رکھتے ہیں،یا عہ بھکاری ہیں ،کیا ایسا کہنا صحیح ہے ؟ اگر نہیں تو ایسے الفاظ استعمال کرنے والے کا کیا حکم ہوگا؟

    ۳)اور اپنے لئے کچھ اور اصول اور دوسرے کیلئے کچھ اور اصول رکھنا اسلام کی نظر میں کیسا ہے ؟

    ۴)علماء کا آپس میں کسی بات پر اختلاف ہونا،اور اس میں ملامت کرنا طنز کرنا سخت الفاظ استعمال کرنا،بد دعائیں دینا،کوسنا،کیسا ہے ؟ مدلل جواب عطاء فرمائیں۔

    جواب نمبر: 609503

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 852-166/TL-7/1443

     (۱، ۲) امام ومؤذن كی تنخواہ اتنی ہونی چاہیے كہ وہ فراغت كے ساتھ گذر بسر كرسكیں، اور یہ احوال اور جائے وقوع كے اعتبار سے مختلف ہوسكتا ہے۔

    (۲) امام كا مرتبہ عظیم الشان ہے ، وہ نائبِ رسول ہے ؛ لہذا اگر امام ومؤذن كی تنخواہ كم ہو اور وہ زیادتی كا مطالبہ كریں تو متولیان كا ان كو بھكاری وغیرہ كہنا ہرگز درست نہیں ، اگر كسی متولی نے ایسے الفاظ كہے ہیں تو اس كو چاہیے كہ امام یا مؤذن(جس كو برا بھلا كہا ہو) سے معافی تلافی كرے اور آئندہ ایسے الفاظ كہنے سے گریز كرے۔ وإذا ثبت أن اسم الإمامة يتناول ما ذكرناه، فالأنبياء عليهم السلام في أعلى رتبة الإمامة، ثم الخلفاء الراشدون بعد ذلك، ثم العلماء والقضاة العدول ومن ألزم الله تعالى الاقتداء بهم، ثم الإمامة في الصلاة ونحوها.[أحكام القرآن للجصاص ط العلمية 1/ 83]

    (۳) یہ بات مجمل ہے اگر كوئی واقعہ پیش آیا ہو تو اس كی وضاحت كركے سوال كریں پھر ان شاء اللہ جواب دیا جائے گا۔

    (۴) آپس میں اختلاف كرنا ، ایك دوسرے كوملامت اور لعن طعن كرنا سخت الفاظ استعمال وغیرہ كرنا ناجائز اور اللہ كو سخت ناپسندیدہ ہیں مسلمان اور بالخصوص علماءحضرات كو ان باتوں سے احتراز ضروری ہے۔عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا عظمت أمتي الدنيا نزعت منها هيبة الإسلام واذا تركت الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر حرمت بركة الوحي وإذا تسابت امتي سقطت من عين الله.[الدر المنثور في التفسير بالمأثور 3/ 127]


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند