• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 609455

    عنوان:

    مدرک کا اپنے کو مسبوق سمجھ کر رکعت کا اضافہ کرنا

    سوال:

    سوال : ایک آدمی امام کے ساتھ پہلی رکعت کے رکوع میں ملا،لیکن آخر میں بھول کر اس خیال سے کہ دوسری رکعت کے رکوع میں ملا ہوں تو وہ امام کے سلام پھیرنے پر کھڑا ہو گیا اور ایک رکعت مسبوق کی طرح پڑہ کر سلام پھیر دیا،تو ساتھ والے مقتدی نے بتایا کہ آپ تو پہلی رکعت میں ملے تھے تو کیا اسکی نماز ہو گئی؟ یا کیا اگر کسی کے بتائے بغیر اسے پہلی رکعت میں ملنے کا یقین ہو گیا سلام پھیرنے پر تو نمازکا کیا حکم ہو گا؟ یا امام کے سلام پھیرنے پر جب کھڑا ہوا تو اسے اپنے سلام پھیرنے سے پہلے یقین ہو تو اب کیا کرے اور اس کی نماز کا حکم کیا ہو گا ؟

    جواب نمبر: 609455

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 862-689/L-7/1443

     مذكورہ بالا صورت میں اگر سلام پھیرنے كے بعد كسی كے كہنے پریا خود ذہن پر زور لگانے كی صورت میں اسے یقین ہوگیا كہ میں شروع سے شاملِ جماعت تھا اور اس نے سلام سے پہلے سجدہ سہو نہیں كیا تھا تو اس كو چاہیے تھا كہ وقت كے ہوتے ہوئے اس نماز كا اعادہ كرلیتا ، اگر اس نے وقت كے اندر اعادہ نہیں كیا اور وقت گذر گیا تو اب اعادہ ضروری نہیں ، كراہتِ تحریمی كے ساتھ نماز درست ہوگئی ؛ اور اگر اس كو سلام پھیرنے سے پہلے یقین ہوگیا تھا تو اس كو چاہیے تھا ایك ركعت اور ملا لیتا تاكہ یہ دونوں ركعتیں نفل ہوجاتیں اور اخیر میں سجدہ سہو كركے تشہد وغیرہ پڑھ كر پھر سلام پھیرتا اگر سجدہ سہو نہیں كیا تو اس نماز كا اعادہ بھی وقت كے اندر كرنا ضروری تھا ۔

    (وإن قعد في الرابعة) مثلا قدر التشهد (ثم قام عاد وسلم)...(وإن سجد للخامسة سلموا) لأنه تم فرضه، إذ لم يبق عليه إلا السلام (وضم إليها سادسة) لو في العصر، وخامسة في المغرب: ورابعة في الفجر به يفتى (لتصير الركعتان له نفلا) والضم هنا آكد، ولا عهدة لو قطع، ولا بأس بإتمامه في وقت كراهة على المعتمد (وسجد للسهو).[الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) 2/ 87]


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند