• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 607530

    عنوان:

    اگر قسم کے الفاظ زبان سے ادا نہیں کیے تھے تو خلاف ورزی کی صورت میں کفارہ ادا کرنا پڑے گا یا نہیں؟

    سوال:

    سوال : میں نے اپنے حیض کے دنوں پکا تہیہ کرکے سوچا تھا کہ میں اپنے اس حیض ث مدت میں سو۔ بار سورة یاسین سنوں گی لیکن پھر میں نہیں سن پائی تو کیا مجھے کفارہ ادا کرنا پڑے گا ۔واضح رہے کہ میں نے زبان سے نہیں کہا تھا نہ ہی قسم کھائی تھی بس دل میں پکا ارادہ کیا تھا ۔

    2) اسی طرح میں نے دل میں ارادہ کیا تھا کہ میں 3 دن قرآن مجید مکمل کرونگی لیکن میں وہ بھی نہ کر پائی۔تو کیا مجھے کفارہ ادا کرنا پڑے گا؟

    3) میں نے دل میں پکا ارادہ کر لیا تھا کہ میں اب YouTube پر فالتو وڈیو کبھی نہیں دیکھوں گی اب میں نہیں دیکھتی لیکن جب مجھے کوئی ضروری وڈیو دیکھنی ہوتی ہے تو میں لگا کہ دیکھ لیتی ہوں کیونکہ جب میں نے سوچا تھا تب میں نے یہ بھی سوچا تھا کہ جب مجھے کوئی ضروری وڈیو دیکھنی ہوگی تو میں لگا کر دیکھ لوں گی تو کیا مجھے کفارہ ادا کرنا پڑے گا؟ اور بھی ایسے بہت ساری باتیں ہیں آپ مجھے اتنا بتا دیں کی جب کسی چیز کا پکا ارادہ کر لیا ہو لیکن پہر وہ نہ کر پائے تو کیا اس کا کفارہ ادا کرنا۔ پڑیگا اور کیا سب کا الگ الگ کفارہ ادا کرنا پڑے گا؟ جزاک اللہ

    جواب نمبر: 607530

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 432-345/B=04/1443

     چونکہ آپ نے زبان سے الفاظ نہیں کہے ہیں، اس لیے یہ قسم کی صورت نہ ہوگی، اور اس کی خلاف ورزی کرنے پر کوئی کفارہ ان تینوں صورتوں میں واجب نہ ہوگا۔ محض دل میں سوچنے یا تہیہ کرنے سے قسم نہیں ہوتی، لہٰذا آپ کے لیے صرف توبہ و استغفار اس صورت میں کرلینا کافی ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند