• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 605935

    عنوان:

    پینشن کے کسی حصے کو پیشگی حاصل کرنا

    سوال:

    ہمارے یہاں سرکاری ملازمین کو انکی سبکدوشی کے وقت قانون کی رُو سے اختیار ملتا ہے کہ وہ سبکدوش ہوجانے کے وقت انکے حق میں مقرر ہوجانے والی ماہانہ پینشن کے @ حصہ کی مقدار سے اگلے تقریباً دس سال میں حاصل ہوجانے والی پینشن کی رقم کو یکمشت پیشگی میں حاصل کرسکتے ہیں اور بدلے میں اوسطاً اسی ماہانہ @ مقدار کی حساب سے 15 سال کی پینشن کے برابر کی رقم ماہانہ قسطوں میں واپس ادا کرنی پڑھتی ہے..سادہ زبان میں کہیں تو سرکار پیشگی میں جتنی رقم دیتی ہے اسے زیادہ واپس لے لیتی ہے... عام طور پر ملازمین اس کے لئے درخواست دے دیتے ہیں کیونکہ اس طرح رقم حاصل کرنے میں سرکار کی طرف سے گنجائش رہتی ہے کہ دوران ادائیگی اگر کسی کا انتقال ہوجائے تو اسکے ذمہ سے باقی شدہ رقم معاف ہوجاتی ہے.اور اسلئے بھی شائد ملازمین اسے حاصل کرتے ہیں کہ یکمشت موٹی رقم حاصل ہوکر اسے کوئی کام نکل جائے گا...اس طریقہ سے ملازمین کو سہولت مہیا کرنا شائد اس وجہ سے ہوتا ہے تاکہ سبکدوشی پر ملازم زیادہ سے زیادہ نقد رقم حاصل کر کے اسے بہتر انداز میں خرچ کرکے اپنی ضروریات کو پورا کر سکے... میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس طریقہ سے رقم کو پیشگی حاصل کرکے حاصل شدہ رقم سے زائد رقم واپس کرنا ملازمین کے لئے جائز ہے یا نہیں.. براہ کرم تفصیلاً رہبری فرماویں... نوازش ہوگی...

    جواب نمبر: 605935

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:14-38T/sn=2/1443

     سوال میں جو صورت آپ نے تحریر کی ہے اگر اس کا منشا یہ ہے کہ سبکدوش سرکاری ملازمین کو ماہانہ جو پینشن دی جاتی ہے ، اس کے بارے میں حکومت کی ایک پالیسی یہ بھی ہے کہ اگر کوئی ملازم یکمشت زیادہ رقم لینا چاہے تو لے سکتا ہے ، اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ (مثلا )دس سال تک کی مجموعی پینشن جتنی رقم بنتی ہے ، وہ یکمشت ملازم کو دے دے گی، اور حکومت کی نظر میں یہ ایک طرح کا قرض ہوگا جو سود پرمبنی ہوگا، اس کے بعد ملازم کا ماہانہ پینشن ملازم کے بہ جائے حکومت اصول کرے گی اور پندرہ سال تک وصول کرے گی یعنی ملازم کو دی گئی رقم سے کافی زیادہ وصول کرے گی، اگر آپ کے سوال کا منشا یہی ہے یعنی ملازم کو اپنی جیب سے کچھ واپس نہیں کرنا ہے ؛ بلکہ ماہانہ پینشن کی رقم سے حکومت خود وصول کرلے گی تو اس طرح کا معاملہ کرنا شرعا جائز ہے ؛ کیوں کہ حکومت جو پینشن دیتی ہے ، ملازم اس کا مالک نہیں ہوتا ؛ بلکہ یہ حکومت کا عطیہ ہوتی ہے ؛لہذا یہاں “سود” کی تعریف صادق نہ آئے گی؛ بلکہ مذکورہ بالا صورت میں یہ توجیہ ہوگی کہ حکومت کوجو عطیہ قسطوں میں دینا تھا، وہ یکمشت کچھ کم کرکے ادا کردی اورا س میں شرعا کوئی قباحت نہیں ہے ؛ لہذا اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کی گنجائش ہے ۔ اسی سلسلے میں ایک استفتا کا جواب یہاں سے تحریر کیا گیا ہے اس کی کاپی رسال ہے ، اسے بھی ملاحظہ فرمالیں۔

    نوٹ: اگر آپ کے پیش نظر کوئی اور صورت ہو تو اس کی مکمل وضاحت کرکے دوبارہ سوال کرلیا جائے ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند