• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 604558

    عنوان:

    مجلس نكاح میں خلاف شرع كام پر نكیر كرنے كی وجہ سے امام پر تبصرہ كرنا؟

    سوال:

    کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک عالم دین اس شرط کے ساتھ نکاح پڑھانے کے لیے راضی ہوے کہ ویڈیوز اور تصاویر وغیرہ خرافات نہیں ہونی چاہیے اور نکاح تک کوئی خرافات بھی نہیں ہوئیں لیکن نکاح پڑھاتے ہی وہی تصویر وغیرہ کھینچنے کاکام شروع ہوگیاتو دوسری طرف عالم صاحب کا غصہ بھی بروقت ظاہر ہوا، جس کی وجہ سے ان عالم دین نے دین کے تئیں اپنے غصہ کے اظہارکے لیے نکاح کے پیسے اور چھوارے واپس کردیے تاکہ انہیں بھی کچھ احساس ہو کیونکہ وہ ان لوگوں کو ان خرافات سے بچنے کی وقتاً فوقتاً ترغیب دیتے رہتے ہیں لیکن ان لوگوں نے بجائے شرمندہ ہونے کے امام صاحب کے تعلق سے الٹی سیدھی باتیں کرنی شروع کردی اور یہ کہنا شروع کردیا کہ امام صاحب کوایسا نہیں کرنا چاہیے تھا اس میں امام صاحب کی غلطی ہے ۔قرآن وحدیث کی روشنی میں مسئلہ وضاحت فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔

    جواب نمبر: 604558

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 842-203T/D=10/1442

     عالم دین کا عمل ابتدا میں اور آخر میں دونوں درست اور موافق شریعت ہے۔ لوگوں کا عالم صاحب کے عمل پر بے جا تبصرہ کرنا باعث گناہ ہے انھیں اللہ تعالی سے توبہ اور عالم صاحب سے معذرت کرنی چاہئے۔

    فقہاء نے صراحت کی ہے کہ اگر کسی تقریب میں منکر اور خلاف شرع امور پائے جانے کا علم پہلے سے ہو تو وہاں جانے سے انکار کردے (شرط لگاکر جانے کی گنجائش ہے)۔

    اور وہاں جانے کے بعد اگر منکر اور معصیت کا علم ہوا تو وہاں سے چلا آئے۔ قال فی الدر: دعی الی ولیمة وثمة لعب او غناء ․․․․․ فلو علی المائدة لا ینبغی ان یقعد بل یخرج معرضاً لقولہ تعالی: فلا تقعد بعد الذکریٰ مع القوم الظالمین۔ فان قدر علی المنع فعل ․․․․․․ فان کان مقتدی ولم یقدر علی المنع خرج ولم یقعد لان فیہ شین الدین ․․․․․․․․ وان علم اولاً باللعب لا یحضر اصلاً سواء کان ممن یقتدی بہ او لا ۔

    تصویر کشی ویڈیو گرافی حرام ہے اس پر عالم صاحب کی ناراضگی بجا ہے۔ نکاح پڑھانے کے بعد یہ چیزیں ظاہر ہوئیں، اس لئے عالم صاحب کا نکاح کے پیسے اور چھوہارا لینا جائز تھا لیکن منکر پر ناراضگی ظاہر کرنے کے لئے یہ چیزیں واپس کردینا بھی بجا ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند