• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 603918

    عنوان:

    كیا نكاح كے علاوہ جنسی خواہش پوری كرنے كا كوئی طریقہ ہے؟

    سوال:

    کیا لڑکیاں اپنی خواہشات اپنے شرمگاہ میں کوئی چیز ڈال کر اور لڑکے اپنے شرمگاہ کو کسی چیز پر رگڑ کر پورا سکتا ہے اگر پورا نہیں کرسکتاہے تو نکاح کے علاوہ کوئی ایسا طریقہ بتائیں جس سے گناہ بھی نہ ہو اور خواہشات بھی پوری جاے ٴ براہ کرم مدلل جواب دینے کی کوشش کریں۔

    جواب نمبر: 603918

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:769-605/L=8/1442

     حدیث شریف میں اس کا علاج یہ بتلایا گیا ہے کہ ایسا شخص روزے کو لازم پکڑ لے ، اسی طرح مقوی غذاؤں کا کم استعمال ، بدنظری وغیرہ سے حفاظت بھی اس میں معین ثابت ہوگی ؛ لہذا ایسے شخص کو چاہیے مذکورہ بالا باتوں پر عمل کرے،شرعاً نکاح کے علاوہ خواہش پوری کرنے کا کوئی اور جائز طریقہ نہیں ہے۔

    قال تعالی:( وَالَّذِینَ ہُمْ لِفُرُوجِہِمْ حَافِظُونَ (5) إِلَّا عَلَی أَزْوَاجِہِمْ أَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُہُمْ فَإِنَّہُمْ غَیْرُ مَلُومِینَ) (المؤمنون: 5، 6) عن عبد اللہ بن مسعود - رضی اللہ عنہ - قال: قال رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم -: ”یا معشر الشباب من استطاع منکم الباء ة فلیتزوج، فإنہ أغض للبصر وأحصن للفرج، ومن لم یستطع فعلیہ بالصوم، فإنہ لہ وجاء“. متفق علیہ. وفی المرقاة: فالمعنی أن الصوم یقطع الشہوة ویدفع شر المنی کالوجاء. قال الطیبی - رحمہ اللہ تعالی -: وکان الظاہر أن یقول: فعلیہ بالجوع، وقلة ما یزید فی الشہوة وطغیان الماء من الطعام، فعدل إلی الصوم إذ ما جاء بمعنی عبادة ہی برأسہا مطلوبة، ولیؤذن بأن المطلوب من نفس الصوم الجوع وکسر الشہوة، وکم من صائم یمتلء معی اہ. ویحتمل أن یکون الصوم فیہ ہذا السر والنفع لہذا المرض، ولو أکل وشرب کثیرا إذا کانت لہ نیة صحیحة، ولأن الجوع فی بعض الأوقات والشبع فی بعضہا لیس کالشبع المستمر فی تقویة الجماع، واللہ تعالی أعلم.(مرقاة المفاتیح شرح مشکاة المصابیح 5/ 2041)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند