• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 600048

    عنوان:

    کافر لڑکوں کو اردو پڑھانا اور انھیں دینی علم سکھانا کیسا ہے ؟

    سوال:

    کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ کافر کے لڑکوں کو اردو پڑھانا اور علم دین سکھانا کیسا ہے ؟ زید کا کہنا ہے کہ ناجائز و حرام ہے اور بکر کا کہنا ہے کہ جائز ہے۔ براہ کرم، مع دلائل جواب مرحمت فرمائیں نوازش ہوگی۔

    جواب نمبر: 600048

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:49-35/sn=2/1442

     اردو تو ایک زبان ہے ، اگر کوئی اپنی کسی ضرورت کے تحت یہ زبان سیکھنا چاہتا ہو تو دیگر زبانوں کی طرح اس زبان کو بھی کوئی مسلمان اسے سکھا سکتا ہے۔ رہا علم دین یعنی قرآن،حدیث، فقہ اورتفسیر وغیرہ سکھانا تو اگر کوئی کافر اسلام کو سمجھنے کے قصد سے یہ علوم سیکھے یا اس کافر سے یہ توقع ہوکہ وہ دینِ اسلام کو قبول کرے گا تو دینی علوم بھی اسے سکھانے کی گنجائش ہے بشرطے کہ وہ علم دین کا احترام ملحوظ رکھتا ہو، اگرسیکھنے کا منشا تردید یا فتنہ پردازی ہوتو پھر جائز نہیں ہے۔

    ویمنع النصرانی من مسہ، وجوزہ محمد إذا اغتسل ولا بأس بتعلیمہ القرآن والفقہ عسی یہتدی.[الدر المختار)(قولہ: ویمنع النصرانی) فی بعض النسخ الکافر، وفی الخانیة الحربی أو الذمی.(قولہ: من مسہ) أی المصحف بلا قیدہ السابق.(قولہ: وجوزہ محمد إذا اغتسل) جزم بہ فی الخانیة بلا حکایة خلاف. قال فی البحر: وعندہما یمنع مطلقا.[الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 1/ 177) ولا بأس بتعلیم الکافر القرآن أوالفقہ رجاءَ أن یہتدی ؛لکن لایمس المصحف مالم یغتسل، وہذا قول مُحَمّد ، وعن أبی یوسف أنہ لایمسہ من غیر فصل.(غنیة المتملی،ص:497،مطبوعة: سہیل لاہور) نیز دیکھیں : فتاوی دارالعلوم دیوبند،17/262،سوال:1578)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند