• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 57123

    عنوان: میرا ایک بڑا مسئلہ ہے، میں بات کرتے ہوئے بہت شرماتی ہوں، اور کسی سے بات کرتے ہوئے ڈرتی ہوں، ، مجلس میں بات اورکھانا بھی نہیں کھاسکتی ، میں سرخ ہوجاتی ہوں، اور ہاتھ وغیرہ پھر کانپتے ہیں۔ ڈاکٹروں سے بھی پوچھا ہے ، لیکن وہ بولتے ہیں کہ یہ ہوتا رہتاہے ،مجھے یہ بالکل اچھا نہیں لگتا، میں بہادر بننا چاہتی ہوں، آپ کوئی اچھی سی دعا وغیرہ بتائیں جس کے پڑھنے سے میں ٹھیک ہوجاؤں یا پھر کوئی وظیفہ بتائیں۔

    سوال: میرا ایک بڑا مسئلہ ہے، میں بات کرتے ہوئے بہت شرماتی ہوں، اور کسی سے بات کرتے ہوئے ڈرتی ہوں، ، مجلس میں بات اورکھانا بھی نہیں کھاسکتی ، میں سرخ ہوجاتی ہوں، اور ہاتھ وغیرہ پھر کانپتے ہیں۔ ڈاکٹروں سے بھی پوچھا ہے ، لیکن وہ بولتے ہیں کہ یہ ہوتا رہتاہے ،مجھے یہ بالکل اچھا نہیں لگتا، میں بہادر بننا چاہتی ہوں، آپ کوئی اچھی سی دعا وغیرہ بتائیں جس کے پڑھنے سے میں ٹھیک ہوجاؤں یا پھر کوئی وظیفہ بتائیں۔

    جواب نمبر: 57123

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 170-154/D=3/1436-U حدیث میں فرمایا گیا ہے الحیاء شعبة من الإیمان حیا (شرم) ایمان کا ایک شعبہ ہے۔ حیاء عورت کے لیے زینت ہے، بہت سے نامناسب اور غلط کام میں پڑنے سے رکاٹ بنتی ہے جب حیا کسی سے رخصت ہوجاتی ہے تو وہ خرابیوں میں پڑجاتا ہے۔ حدیث میں ہے إذا لم تستحیی فاصنع ماشئت جب تم حیا نہ کرو تو جو چاہے غلط کام کرو، ایک حدیث میں ہے، بیشک حیا اور ایمان دونوں ساتھی ہیں جب ایک ختم ہوجاتا ہے تو دوسرا بھی اٹھالیا جاتا ہے، یعنی جب حیا ختم ہوجاتی ہے تو ایمان بھی (بتدریج) رخصت ہوجاتا ہے۔ ایک حدیث میں فرمایا گیا ہے الحیاء لا یأتي إلا بخیر، الحیاء خیر کلہ۔ یعنی حیا سب کے سب بہتر ہے، نیز آپ صلی اللہ علیہ سلم نے ارشاد فرمایا، الحیاء من الإیمان في الجنة یعنی حیاء ایمان کا حصہ ہے اور ایمان کے نتیجہ میں جنت میں داخلہ ملے گا (نوٹ یہ سب حدیثیں مشکاة شریف میں ہیں) حیا کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بڑی نعمت اور دولت عطا فرمائی ہے، آج دنیا میں جو خرابیاں اور برائیاں عام ہورہی ہیں ان میں بڑا حصہ بے حیائی اور بے شرمی کا ہے جن کی وجہ سے برائیوں کی قباحت ذہنوں سے نکل رہی ہے نیز عریانیت، بے حجابی فیشن کے مظاہرہ وغیرہ، کے ذریعہ جو خرابیاں پیدا ہورہی ہیں ان کے اثر سے لڑکیوں میں بے حیائی اور بے شرمی کے رجحانات فروغ پارہے ہیں۔ البتہ شرم وحیاء کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے بھی کوئی لڑکی شجاعت اور دلیری کی صفات سے متصف ہوسکتی ہے کہ یہ صفات دل میں ہوتی ہیں، جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ حق بات کے اختیار کرنے اور صحیح راہ اپنانے کی اس میں ہمت پیدا ہوتی ہے اوراچھے کام اختیار کرنے میں دل کی مضبوطی اور ارادوں کی پختگی سے وہ کام لیتی ہے، اس کے لیے یہ جامع دعا جو کہ مختصر بھی ہے اور آسان بھی اسے یاد کرلیں اور پڑھتی رہیں اللھُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ الْھُدَی وَالتُّقَی، وَالْعَفَافَ وَالْغِنَی جن چار چیزوں کا اس دعا میں ذکر کیا گیا ہے، موجودہ وقت میں ان پر عمل پیرا ہونے کے لیے قوی ہمت کی ضرورت ہے، جو بغیر اندرونی دلیری اور شجاعت کے حاصل نہیں ہوسکتی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند