• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 56001

    عنوان: عیدا لاضحی کے موقع پر واجب قربانی کے علاوہ ، کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بڑوں کے ایصال ثواب کے لیے اضافی قربانی کرتے ہیں، کشمیر کے سیلاب جیسی صور تحال میں جہاں دوائی ، بچوں کے کھانے وغیرہ کی گوشت کے مقابلے میں بہت زیادہ ضرورت ہے تو کیا نفل قربانی(واجب قربانی نہیں) کے برابر پیسے دینا مسلمانوں کے لیے بہتر نہیں ہے؟ میرا سوال یہ ہے کہ شدید ضرورت کی بنا پر (جیسے کشمیر میں آیا ہوا سیلاب وغیرہ) میں خیرات میں پیسے دینا نفل قربانی کے گوشت کے مقابلے میں زیادہ ضروری ہے یا نہیں؟عید الاضحی کے موقع پر لوگ زیادہ جانوروں کی قربانی کرتے ہیں جو کہ واجب نہیں ہوتے ہیں، اور یہ صرف سماجی رویات کی وجہ سے ہے ۔ اللہ ہمیں معاف کرے۔ براہ کرم، اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔

    سوال: عیدا لاضحی کے موقع پر واجب قربانی کے علاوہ ، کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بڑوں کے ایصال ثواب کے لیے اضافی قربانی کرتے ہیں، کشمیر کے سیلاب جیسی صور تحال میں جہاں دوائی ، بچوں کے کھانے وغیرہ کی گوشت کے مقابلے میں بہت زیادہ ضرورت ہے تو کیا نفل قربانی(واجب قربانی نہیں) کے برابر پیسے دینا مسلمانوں کے لیے بہتر نہیں ہے؟ میرا سوال یہ ہے کہ شدید ضرورت کی بنا پر (جیسے کشمیر میں آیا ہوا سیلاب وغیرہ) میں خیرات میں پیسے دینا نفل قربانی کے گوشت کے مقابلے میں زیادہ ضروری ہے یا نہیں؟عید الاضحی کے موقع پر لوگ زیادہ جانوروں کی قربانی کرتے ہیں جو کہ واجب نہیں ہوتے ہیں، اور یہ صرف سماجی رویات کی وجہ سے ہے ۔ اللہ ہمیں معاف کرے۔ براہ کرم، اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 56001

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1498-1507/N=1/1436-U جن لوگوں پر قربانی واجب نہیں ہے، لیکن وہ کوشش وہمت کرکے ہرسال نفلی قربانی کرتے ہیں، اگر وہ نفلی قربانی کے ساتھ کشمیر کے سیلاب زدگان کی امداد میں بھی حصہ لیں تو یہ بہت بہتر ہے اور اگر وہ دونوں کام نہیں کرسکتے اور ان پر نذر یا ایام قربانی میں قربانی کی نیت سے قربانی کا جانور خریدنے یا بڑے جانور میں حصہ لینے سے بھی قربانی واجب نہیں تو وہ اگر حسب استطاعت کشمیر کے سیلاب زدگان کی امداد میں حصہ لیں تو بہت بہتر ہے اورجو لوگ صاحب استطاعت ہیں اور اللہ نے ان کو خوب مال ودولت سے نوازا ہے ان کو کشمیر کے سیلاب زدگان کی امداد میں خوب بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے، خواہ اس کی وجہ سے اُسے اپنے روز مرہ کے اخراجات کم کرنا پڑے۔ باقی آپ نے نفلی قربانیوں کے متعلق جو سماجی روایات کی بات کہی ہے یہ صحیح نہیں؛ کیوں کہ دلوں کی بات صرف اللہ تعالیٰ جانتے ہیں اور آدمی کو اس طرح کی بات نہ کہنی چاہیے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند