• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 55511

    عنوان: اگر کوئی غیر مسلم کا کھیت یا دوسری ایسی پروپرٹی رہن رکھے جس کی آمدنی وہ خود کھائے ، لیکن دیئے گئے پیسوں میں کٹوتی نہ ہو تو یہ کیسا ہے؟ کیا ہندو یا غیر مسلم کا رہن رکھنا جائز ہے؟ کتاب و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔

    سوال: اگر کوئی غیر مسلم کا کھیت یا دوسری ایسی پروپرٹی رہن رکھے جس کی آمدنی وہ خود کھائے ، لیکن دیئے گئے پیسوں میں کٹوتی نہ ہو تو یہ کیسا ہے؟ کیا ہندو یا غیر مسلم کا رہن رکھنا جائز ہے؟ کتاب و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔

    جواب نمبر: 55511

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1743-1468/B=11/1435-U رہن رکھنے والے کے لیے شئ مرہون کی آمدنی کھانا جائز نہیں، یہ سود ہے جو حرام ہے، اگر راہن اجازت بھی دے جب بھی مرتہن کے لیے اس کی آمدنی لینا اور اس سے نفع اٹھانا جائز نہیں، کسی کو قرض دے کر اس سے نفع اٹھانا حدیث پاک میں سود قرار دیا گیا ہے کل قرضٍ جر نفعًا فہو ربا ہندو غیرمسلم کا رہن رکھنا بھی جائز ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند