• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 54878

    عنوان: خواب میں اور عالم ارواح میں اس قسم كے واقعات ممکن ہیں

    سوال: میرا سوال ویسے تو فضائل صدقات صفحہ نمبر 514قصہ نمبر 16کے بارے میں ہے ، جس کا میں نے مثال کے طور پر ہی حوالہ دیا ورنہ اس طرح کے بہت سے قصے اس کتاب اور فضائل اعمال میں لکھے ہیں جن سے ثابت ہوتاہے کہ مرنے کے بعد بھی علمادنیا میں کچھ کرسکتے ہیں۔ یہی بحث تو ہماری بریلوی سے ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد بھی ولی اللہ کچھ کرسکتے ہیں اور ہم کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔ اگر کوئی کچھ کرسکتا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کرتے جو اپنی امت سے بے حد محبت کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد امت میں نہ جانے کتنے اختلاف ہوئے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی اختلاف کا فیصلہ نہ کیا۔ پھر یہ علماء نعوذباللہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اختیار میں آگے بڑھ گئے ؟ معاف کیجئے گا مفتی صاحب پر کہیں ہم انجانے میں بریلویوں کی راہ پر تو نہیں چل پڑے

    جواب نمبر: 54878

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 46-43/B=1/1436-U آپ کے اشکال کا جواب تو قصہ کے آخر میں موجود ہے اس قسم کا واقعہ کیونکر ہوگیا، اس میں کوئی محال چیز نہیں ہے۔ یہ خواب ہے اور عالم ارواح میں بھی اس قسم کے واقعات ممکن ہیں۔ بریلوی لوگ تو انھیں حاجت روا سمجھتے ہیں، اپنی تمام حاجتیں اور مرادیں ان سے مانگتے ہیں اور انھیں تمام مشکلات کو دور کرنے والا سمجھتے ہیں ان کا عقیدہ اور فعل شرکیہ ہے، خواب، کشف وکرامات اورعالم ارواح کی باتیں ہمارے لیے حجت شرعی نہیں، مگر غلط بھی نہیں اسی لیے اس طرح کی چیزوں پر کوئی اشکال بھی نہ کرنا چاہیے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند