• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 51084

    عنوان: میرا سوال یہ ہے کہ میرے ایک دوست کو کچھ عرصے پہلے ایک شاپنگ سینٹر سے ایک سونے کا کڑا ملا جس کو اس نے بیچ کررقم استعمال کی، اب اس کو پتاچلا کہ یہ تو غلط ہوگیا، جس کیوجہ سے وہ انتہائی پیریشان کا شکار ہے، اب نہ تو یہ معلوم ہے کہ اتنے بڑے شاپنگ سینٹر میں کس کا تھا اور بات بھی پرانی ہوگئی ۔ براہ کرم، کوئی حل بتائیں تاکہ یہ ذمہ ادا ہوجائے ؟

    سوال: میرے ایک دوست کو کچھ عرصے پہلے ایک شاپنگ سینٹر سے ایک سونے کا کڑا ملا جس کو اس نے بیچ کررقم استعمال کی، اب اس کو پتاچلا کہ یہ تو غلط ہوگیا، جس کیوجہ سے وہ انتہائی پیریشان کا شکار ہے، اب نہ تو یہ معلوم ہے کہ اتنے بڑے شاپنگ سینٹر میں کس کا تھا اور بات بھی پرانی ہوگئی ۔ براہ کرم، کوئی حل بتائیں تاکہ یہ ذمہ ادا ہوجائے ؟

    جواب نمبر: 51084

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 370-120/L=4/1435-U آپکے دوست کوجو کڑا ملا تھا وہ لقطہ تھا، اور لقطہ کا حکم یہ ہے کہ حفاظت سے رکھے نقصان نہ ہونے دے، مالک کو تلاش کرتا رہے، اپنے اعتبار سے اس کی تشہیر کرے، اگر اس قدر تشہیر کردی کہ اب مالک کے ملنے کی توقع نہ رہی تو اس کو کسی غریب کو بطور صدقہ اس نیت سے دیدے کہ اس کا وبال سرپر نہ رہے، اگرمالک مسلمان ہے تو اس صدقہ کا ثواب اس کو ملے، اگر صدقہ کے بعد مالک آجائے اوروہ صدقہ کرنے پر راضی نہ ہو بلکہ قیمت کا مطالبہ کرے تو قیمت کا دینا لازم ہوگا۔ مذکورہ بالا تفصیل سے پتہ چلا کہ اولاً آپ کے دوست کو چاہیے کہ اس شاپنگ سینٹر پر جاکر کڑے کے مالک کی تحقیق کرے اگر مالک کا کوئی سراغ نہ مل سکے تو اس کی طرف سے اتنی رقم کسی غریب کو صدقہ کردے۔ ان شاء اللہ اس سے اس کا ذمہ بری ہوجائے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند