• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 50896

    عنوان: عید میلاد النبی

    سوال: عید میلاد النبی کی اسلام میں کیا حیثیت ہے؟ آیا اس دن کوعید کہنا بھیجائز ہے؟ میرے ایک دوست نے مجھے کچھ حوالے دکھائے ان کی رو سے علامہ سیوطی اور شیخ عبدالحق کی کتاب ماثبت بالسنة سے جن کی رو سے عید میلاد النبی منانا جائز لکھ رہا تھا۔

    جواب نمبر: 50896

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 368-128/L=4/1435-U ۱۲/ ربیع الاول کو عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طور پر منانا ثابت نہیں، اس دن جلسہ جلوس نکالنا روایات موضوعہ منکرہ بیان کرنا، قیام بوقت ذکر ولادت کو لازم سمجھنا، ان امور کی وجہ سے یہ مجلس بدعت ضلالہ میں داخل ہے جس کا ترک ضروری ہے۔ واضح رہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کا بیان کرنا مستحسن بلکہ افضل الاذکار ہے، اس کے ہم منکر نہیں،صاحب مدخل تحریر فرماتے ہیں: وجملة ما أحدثوہ من البدع مع اعتقادہم أن ذلک من أکبر العبادات وإظہار الشعائر ما یفعلونہ في شہر ربیع الأول وقد احتوی علی بدعات ومحرمات ”منجملہ ان بدعات کے جو لوگوں نے گھڑ لی ہیں اور اس کے ساتھ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ یہ سب سے بڑی عبادت اور دین کی نشر واشاعت ہے وہ بدعات ہیں جوماہ ربیع الاول میں مجلس مولد کے نام سے کی جاتی ہے حالانکہ یہ مجلس بہت سی بدعات اور محرمات پر مشتمل ہے“ (مدخل: ۱/۲۶۱) بعض بزرگوں کے اقوال یا افعال سے محض اس دن کسی کارِ خیر کے کرنے کا پتہ چلتا ہے، ان کے قول یا فعل سے عید میلاد النبی کے منانے کو ثابت کرنا درست نہیں، براہین قاطعہ میں امام سیوطی رحمہ اللہ کا مقصد مفصل مذکور ہے، اس کا مطالعہ کرلیا جائے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند