• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 43712

    عنوان: اچھے خواب دیکھنے یااستخارہ کرکے شامل ہونے سے حکم شرعی جواز یا عدم جواز کا ثابت نہیں ہوتا

    سوال: عرض یہ ہے کہ آج کل پاکستان میں کیف ایبل ایشیاء یاالیگزر گروپ وغیرہ کمپنیوں کی طرف سے مضاربت یا مشارکت کا کاروبار چل رہاہے۔ جس کو چلانے والے علماء ہیں۔ جس کے جواز یا عدم کے جواز متعلق کافی چہ مے گوئیا ں ہورہی ہے ۔اورکمپنی والوں کی طرف سے یہ بھی کھا جاتا ہے کہ بھائی جو حضرات اسلامی بینکاری کو ناجائز کہتے ہیں وہ اس کاروبار کو بھی ناجائز کہیں گے۔اور ابھی تک ناجائز کہنے والوں کے کانوں میں یہی بات ڈالی جارہی تھی کہ اس کاروبار کی کوئی حقیقت ہی نہیں۔حالانکہ ایسا نہیں۔مزید یہ کہ لوگوں نے اس کاروبار کے متعلق اچھے خواب بھی دیکھے ہیں ۔لوگ استخارے کرکے آتے ہیں ۔اس کاروبار میں بڑے علمائے کرام اور شیوخ حضرات بھی شامل ہیں جن کے متعلق یہ شبہ بھی نہیں کیا جاسکتاکہ یہ حضرات حرام کمائیں گے۔وغیرہ وغیرہ۔ لھذااس کاروبارکے جواز وعدم جواز یا اولی وغیر اولی ہونے کے متعلق آپ حضرات کی رائے کیا ہے؟ شریعت کی روشنی میں اس مشکل گھڑی میں ہماری رہنمائی فرماکر ثواب دارین حاصل کریں۔جزاکم اللہ فی الدارین، المستفتی مراد احمد گاوں ادینہ تحصیل رزڑ ضلع صوابی پاکستان۔

    جواب نمبر: 43712

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 275-203/D=2/1434 (۱) اچھے خواب دیکھنے یااستخارہ کرکے شامل ہونے سے حکم شرعی جواز یا عدم جواز کا ثابت نہیں ہوتا، نہ شرعاً اس سے ترجیح ہی ثابت ہوسکتی ہے، اسی طرح علماء یامشائخ کا محض عمل حجت شرعیہ نہیں جب تک کہ دلیل شرعی سے اسکی تائید نہ ہو۔ (۲) ہمیں اس کاروبار کی واقعی تفصیلات کا علم نہیں۔ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ کو تفصیلات سے واقفیت ہوگی، ان سے حکم معلوم کرلیں، یا پھر کسی دوسرے واقفِ کار مستند عالم ومفتی سے حکم شرعی معلوم کرکے عمل کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند