• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 37473

    عنوان: نومسلہ كا غیرمسلم شوہر كے ساتھ رہنا

    سوال: ہماری ایک ملازمہ ہیں۔وہ مسلمان ہونا چاہتی تھیں۔میں ان سے کہا کہ غسل کرکے ہمارے گھر آجانا۔۔گھر پر میری بیوی نے وضو کروایا اور ہم نے کلمہ شہادت اسے پڑھا دیا۔باقی نماز کا طریقہ اور دوسرے معاملات میری بیوی سے سیکھ رہی ہیں۔ یہ خاتون جو اٹھائیس سال کی ہیں ۔ دو بچیوں کی ماں ہیں۔ اب وہ خاوند کو چھوڑنا نہیں چاہتیں، کیونکہ وہ بچوں کے بارے میں انتہائی فکر مند ہیں۔ اور خاوند یا دیگر رشتہ داروں کو ان کے مسلمان ہونے سے کوئی ٹینشن نہیں، مذہب کے معاملے میں وہ آزاد ہیں۔ اب اگر ان پر زور کیا جائے تو دوبارہ عیسائی ہونا چاہتی ہیں۔ اگر ان کو اجازت دی جائے کہ وہ مسلمان ہی رہیں اور اس خاوند کو بھی نہ چھوڑنا پڑے تو وہ اسلام ہی کو اپنا مذہب بنانے کو ترجیح دیں گی۔ اس بارے کوئی راستہ سجھائی نہیں دیتا۔ آپ ہماری یہ الجھن دور فرما دیں۔یہ لوگ جاپان کے رہائشی ہیں۔

    جواب نمبر: 37473

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ب): 337=60-3/1433 اسلام کی تعلیم انھیں دیتے رہیں، بہت ممکن ہے آگے چل کر ان کو اسلام کی عظمت اور عیسائیت سے نفرت صحیح معنوں میں پیدا ہوجائے یا اس کا شوہر بھی مسلمان ہوجائے اورجب کوئی تدبیر کارگر نہ ہو تو اسے خاوند کے پاس رہنے دیں، جب کہ وہ اسلام ہی کو اپنا مذہب بنائے رکھے گی۔ آپ لوگ اس کے شوہر کے مسلمان ہونے کی خوب خوب دعا کریں، اور یہ شعر بطور دعا کے کثرت سے آپ لوگ بھی پڑھتے رہیں اور اس نومسلمہ کو بھی یاد کرادیں وہ بھی پڑھتی رہے۔ وہ شعر یہ ہے۔ فَسَہِّلْ یَا اِلٰہِیْ کُلَّ صَعْبٍ بِحُرْمَةِ سَیِّدِ الاَبْرَارِ سَہِّلْ یہ بہت مجرب ہے، اس کے پڑھنے سے ان شاء اللہ کوئی راستہ نکلے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند