• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 3211

    عنوان:

    میں کچھ دنوں سے ارتداد کی اسلامی سزا کے بارے میں سوچ رہاہوں ، پانچ آدمیوں کے اتفاق کرنے پر اس کی سزا موت ہے ۔ مصر میں ایک فتوی جارہی ہواہے کہ مسلمان کے لیے اپنا مذہب بدلناجائزہے ۔میں محسوس کرتاہوں کہ لوگوں نے اپنی طرف سے مرتدوں کے لیے سزئے موت تجویز کی ہے۔ ۔۔۔؟

    سوال:

    میں کچھ دنوں سے ارتداد کی اسلامی سزا کے بارے میں سوچ رہاہوں ، پانچ آدمیوں کے اتفاق کرنے پر اس کی سزا موت ہے ۔ مصر میں ایک فتوی جارہی ہواہے کہ مسلمان کے لیے اپنا مذہب بدلناجائزہے ۔میں محسوس کرتاہوں کہ لوگوں نے اپنی طرف سے مرتدوں کے لیے سزئے موت تجویز کی ہے۔

    کیایہ ممکن ہے کہ سزائے موت کی تجویز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی (نعوذ بااللہ ) غلط تشریح کی بنیا دپر ہو ؟ بہت سی وجوہات کی بنیاد پر، (۱) مختلف جرائم کی سزائے موت کی بابت قرآن نے صاف اعلان کردیاہے لیکن مرتدوں کی سزاکی نوعیت کے بارے میں خاموش ہے۔ (۲) قرآن میں جابجا یہ کہا گیاہے کہ جو ایما ن لاتے ہیں اور جو ایمان نہیں لاتے ہیں یا جو اپنے ایمان بر باد کردیتے ہیں اللہ تعالی اس کو اس دنیااور آخرت میں سزا دیں گے۔ اگر اللہ تعالی بذات خود ان لوگوں کو سز ادیں گے تو ہمیں سزا دینے کا کیا حق پہنچتاہے؟ ان کو سز دینے کے لیے اللہ تعالی کو ہماری مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ (۳) قرآن میں ہے کہ مذہب میں کوئی اکراہ نہیں ہے، تو جو مسلمان اسلام چھوڑنا چاہتاہے اگر اسے کہا جائے کہ ایساکرنے پر مرجاؤگے تو کیا یہ اکراہ نہیں ہے؟ (۴) اگر کوئی اسلام چھوڑدیتاہے اور بیس ۲۰/ سال کے بعد غلطی کا احساس ہوتاہے اور پھر دوبارہ اسلام میں داخل ہوناچاہتاہے، اگر اس کو سزائے موت دیدی جائے تو ایسا نہیں ہوسکے گا اس لیے کہ جو اسلام میں دوبارہ داخل ہونے کی اہلیت رکھتاہواس کو قتل کرنے سے اس کے دوبارہ مسلمان ہونے اور جنت میں داخل ہونے کا یہ حق ختم ہوجاتاہے، ہم کون ہیں جو کسی کو جنت میں داخل ہونے سے روکیں؟ مختصر یہ کہ قرآن کا بیان اور منطق کا تقا ضا ہے کہ مرتدوں کو اللہ تعالی کی طرف سے سزاہواور لوگوں کو کسی کے من چاہے ایمان سے کو ئی سروکار نہیں ہوناچاہئے ۔ جہا ں تک ان احادیث کی بات ہے کہ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرتدوں کو قتل کرنے کا حکم صادر فریاہے تو کیا ممکن ہے کہ یہ اس صورت میں تھا جب مدینہ میں اسلام کوماننے والے تھوڑے تھے، مرتدہونے والے دوسری طرف چلے جاتھے اورمسلمانوں پر حملہ کرنے کے لیے ان کے ساتھ کام کرتھے ، غدار جاسوس بن جاتے تھے؟ یہ بھی ممکن ہے کہ اس زمانے میں آپ ﷺ مرتدوں کوقتل کرنے کا حکم دیئے تھے اس لیے نہیں کہ انہوں نے مذہب کے انتخاب میں اپنا ذاتی فیصلہ لیاہے بلکہ یہ حکم سیاسی فیصلہ کی بنیاد پر تھا کہ وہ لڑائی کرناچاہتاتھے؟ اس مسئلہ میں علماء کا آپس میں اختلاف ہے۔ بہت سے لوگو ں نے صلاح دی ہے کہ دیوبند سے اس پر فتوی لیاجائے۔ براہ کرم، اس کی وضاحت کریں۔

    جواب نمبر: 3211

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1404/ب=1234/ب

     

    مصر سے جو فتوی جاری ہوا ہے پہلے وہ مع سوال و جواب کے ارسال فرمائیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اسلام میں ارتداد کی سزا جو حدیث پاک سے ثابت ہے، یہ اہل حکومت سے متعلق ہے، وہی لوگ اس طرح کی سزا دینے کا حق رکھتے ہیں۔ ہمیں آپ کو اس میں الجھنے کی ضرورت نہیں۔ اہل حکومت اپنے مشیر جید علماء سے اور شرعی قاضیوں سے مشورہ کرنے کے بعد سزا دیتے ہیں۔ تیسری بات یہ ہے کہ آپ عالم دین نہیں ہیں۔ اپنے مبلغ علم سے اونچی بات سوچنے کی جسارت نہ کرنی چاہیے۔ ہاں کوئی مسئلہ سمجھ میں نہ آتا ہو تو اسے دریافت کرسکتے ہیں۔ چوتھی بات یہ ہے کہ اپنے عقلی گدے لگانے کے بجائے آپ فقہی کتابوں میں احکام المرتدین کا باب غور سے پڑھ لیں۔ آپ کو بہت سارے مسائل معلوم ہوجائیں گے۔ اور شروح حدیث کا مطالعہ کریں تو آپ کو سارا مالہ و ماعلیہ معلوم ہوجائے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند