• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 30884

    عنوان: میرا یک دوست آفیسر کی پوسٹ پر ہے، اس نے بتا یا کہ وہ جب بھی کسی فائل یا کسی چیک پر دستخظ کرتاہے تو ایک مرتبہ بسم اللہ یا کلمہ طیبہ پڑھ کر کرتاہے، اس طرح سے ایک عبادت ہوجاتی ہے اور کام بھی چلتا رہتاہے۔ میں یہاں یہ معلوم کرنا چاہتاہوں کہ کیا یہ عمل درست ہے؟

    سوال: میرا یک دوست آفیسر کی پوسٹ پر ہے، اس نے بتا یا کہ وہ جب بھی کسی فائل یا کسی چیک پر دستخظ کرتاہے تو ایک مرتبہ بسم اللہ یا کلمہ طیبہ پڑھ کر کرتاہے، اس طرح سے ایک عبادت ہوجاتی ہے اور کام بھی چلتا رہتاہے۔ میں یہاں یہ معلوم کرنا چاہتاہوں کہ کیا یہ عمل درست ہے؟کیوں کہ جب بھی کوئی فائل دیکھی جاتی ہے تو وہ غیر مسلموں کے سلسلے میں بھی ہوتی ہے، بار بار ان کا نام آتاہے پھر پورا کیس پڑھنے کے بعد اس پر بسم اللہ یا کلمہ طیبہ پڑھ کر دستخظ کرتاہے۔ اسی طرح چیک پر بھی غیر مسلموں کا بھی نام ہوتاہے، تو غیر مسلم کا نام لے کر پھر بسم اللہیا کلمہ طیبہ پڑھنے کے بعد دستخظ کرکرنا کیساہے؟ برا ہ کرم، اس بارے میں رہنائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 30884

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ل): 455=115-4/1432 ہرفائل پر دستخط کرتے وقت بسم اللہ الرحمن الرحیم یا کلمہ طیبہ کا ورد کرنا صحیح نہیں، بسم اللہ الرحمن الرحیم سے کلام کی ابتدا کسی مہتم بالشان کام کے وقت کرنی چاہیے، نیز اس میں ایک خرابی یہ بھی ہے کہ اگر غلط کام پر دستخط کرنا ہوا اور بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر دستخط کیا تو بجائے ثواب کے گناہ ہوگا، یہی حال کلمہ طیبہ کا ہے، ذکر ہروقت مطلوب ومستحسن ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہروقت ذکر کرتے البتہ اس کو کسی خاص کام کرتے وقت لازم کرلینا صحیح نہیں، اگر آپ کے دوست یہی چاہیے ہیں کہ ان کا وقت ڈیوٹی کے ساتھ ذکر میں بھی گذرتا رہے تو دستخط کے ساتھ لا الٰہ الا اللہ یا کم ازکم ”اللہ اللہ“ پڑھتے رہیں اس کو دستخط کی حد تک محدود نہ کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند