• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 24463

    عنوان: (۱) اگر کسی کی اوالاد نہ ہو اور اپنے کسی رشتہ دار کے بچہ کو گود لیتاہے تو کیا وہ اپنے آپ کو اس بچے کا باپ کہہ سکتا ہے ؟ اورکیا وہ بچہ اس کی بیوی کو امی کہہ سکتاہے؟
    (۲) اگر کسی کی زبان سے صحیح الفاظ کی ادائیگی کی قدرت نہ ہوتی ہو اور اس کو اذان و تکبیر پڑھنے کا بڑا شوق ہو ، نیز وہ باشرع ہو اور تکبیر کے ساتھ نماز پڑھنے کا پابند ہو ، اذان دینے کے لیے مسجد میں فجر سے عشاء تک مقامی مسجد میں دس سے پندرہ منٹ پہلے آجاتاہو تو کیا وہ اذان دے سکتاہے؟ یا نہیں؟

    سوال: (۱) اگر کسی کی اوالاد نہ ہو اور اپنے کسی رشتہ دار کے بچہ کو گود لیتاہے تو کیا وہ اپنے آپ کو اس بچے کا باپ کہہ سکتا ہے ؟ اورکیا وہ بچہ اس کی بیوی کو امی کہہ سکتاہے؟
    (۲) اگر کسی کی زبان سے صحیح الفاظ کی ادائیگی کی قدرت نہ ہوتی ہو اور اس کو اذان و تکبیر پڑھنے کا بڑا شوق ہو ، نیز وہ باشرع ہو اور تکبیر کے ساتھ نماز پڑھنے کا پابند ہو ، اذان دینے کے لیے مسجد میں فجر سے عشاء تک مقامی مسجد میں دس سے پندرہ منٹ پہلے آجاتاہو تو کیا وہ اذان دے سکتاہے؟ یا نہیں؟

    جواب نمبر: 24463

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ب): 1514=1179-9/1431

    حقیقةً باپ کہنا تو دُرست نہیں۔ مجازاً کہہ سکتا ہے، اس کی بیوی کو مجازاً امی کہہ سکتا ہے۔ یعنی ولدیت لکھواتے وقت یا بتاتے وقت اصل اورحقیقی باپ کا نام لکھوانا اور بتانا ہوگا۔
    (۲) اس کے لیے اذان و تکبیر پڑھنا جائزنہیں، پہلے اسے صحیح کلمات اذان کہنا سیکھنا چاہیے جب تمام کلمات کی ادائیگی صحیح ہوجائے اس کے بعد ہی اذان وتکبیر کہنے کا حق رکھتا ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند