• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 18651

    عنوان:

    گناہِ کبیرہ کسے کہتے ہیں؟ (۲)گناہ ِصغیرہ کسے کہتے ہیں؟ (۳)گناہِ صغیرہ کی چند مثالیں بھی دیجئے؟

    سوال:

    (۱)گناہِ کبیرہ کسے کہتے ہیں؟ (۲)گناہ ِصغیرہ کسے کہتے ہیں؟ (۳)گناہِ صغیرہ کی چند مثالیں بھی دیجئے؟

    جواب نمبر: 18651

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ل): 214=50tl-2/1431

     

    گناہ کبیرہ وصغیرہ کی تعریفات سے پہلے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ مطلق گناہ نام ہے ہرایسے کام کا جو اللہ تعالیٰ کے حکم اور مرضی کے خلاف ہو، اس سے پتہ چلا کہ اصطلاح میں جس گناہ کو صغیرہ کہا جاتا ہے درحقیقت وہ بھی صغیرہ نہیں، اللہ کے حکم کی خلاف ورزی ہرحال میں نہایت سخت وشدید جرم ہے، اسی لیے امام الحرمین اور علماء امت نے اللہ کی ہرنافرمانی کو گناہ کبیرہ کہا ہے، کبیرہ اور صغیرہ کا فرق صرف گناہوں کے باہمی مقابلہ وموازنہ کی وجہ سے کہا جاتا ہے، اسی معنی میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ کل ما نہی عنہ فہو کبیرة خلاصہ یہ ہے کہ جس گناہ کو اصطلاح میں صغیرہ یا چھوٹا کہا جاتا ہے اس کے یہ معنی کسی کے نزدیک نہیں کہ ایسے گناہوں کے ارتکاب میں غفلت یا سستی برتی جائے اور ان کو معمولی سمجھ کر نظرانداز کیا جائے بلکہ صغیرہ گناہ کو بیباکی اور بے پروائی کے ساتھ کیا جائے وہ بھی کبیرہ ہوجاتا ہے، گناہ کبیرہ کی تعریف قرآن وحدیث اور اقوال سلف کی تشریحات کے ماتحت یہ ہے کہ جس گناہ پر قرآن میں کوئی شرعی حد یعنی سزا دنیا میں مقرر کی گئی ہے یا جس پر لعنت کے الفاظ وارد ہوئے ہیں یا جس پر جہنم وغیرہ کی وعید آئی ہے وہ سب گناہ کبیرہ ہیں، اسی طرح ہروہ گناہ بھی کبیرہ میں داخل ہوگا جس کے مفاسد اور نتائج بد کسی کبیرہ گناہ کے برابر یا اس سے زائد ہوں اور جو گناہ صغیرہ جرأت و بیباکی کے ساتھ کیا جائے وہ بھی کبیرہ ہے، گناہ کبیرہ کی مذکورہ تعریف سے گناہ صغیرہ کی تعریف خود بخود واضح ہوجاتی ہے، یعنی گناہ صغیرہ وہ ہے جس پر کوئی حد لعنت یا جہنم کی وعید وارد نہ ہوئی ہو نیز جو جرأت اور بیباکی سے نہ کیا جائے، سوال میں مذکور تیسرے جزء کا جواب نہیں دیا جاسکتا ہے ورنہ بعض لوگ گناہ صغیرہ کے معلوم ہوجانے کے بعد بیباکی اور جرأت سے اس کا ارتکاب کیا کریں گے جو کبیرہ تک مفضی ہوگا بعض احکام کے پوشیدہ رکھنے میں ہی مصلحت ہوتی ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند