• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 175918

    عنوان: کیا شہید حکمی پر بھی شہید حقیقی والے فضائل و مناقب کا اطلاق کیا جا سکتا ہے ؟

    سوال: شہید کی دو اقسام ہیں حقیقی حکمی شہید حقیقی کے بارے میں قرآن و حدیث میں بے شمار فضائل و مناقب کا تذکرہ ہے ۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا ان فضائل ومناقب کا اطلاق شہید حکمی پر بھی کیا جا سکتا ہے ۔

    جواب نمبر: 175918

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 457-489/L=07/1441

    شہید حکمی بھی شہید ہے، اس کو بھی آخرت میں کوئی ایسا مرتبہ ملے گا جو دسروں کو نہیں ملے گا اور اللہ تعالی کی رحمت سے امید ہے کہ اس کو بھی آخرت میں شہید حقیقی کی طرح مغفرت ملے گی؛ البتہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ تمام احکام و فضائل میں شہید حقیقی کے برابر ہے؛ بلکہ شہید حقیقی کا مرتبہ بہت بڑھ کر ہے؛ اس لئے جو فضائل و مناقب شہید حقیقی کے بارے میں وارد ہوئے ہیں ان کو شہید حقیقی میں ہی محدود رکھنا چاہئے، اور شہید حکمی میں منطبق نہیں کرنا چاہئے۔

    عن أبي ہریرة رضي اللہ عنہ: أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ”الشہداء خمسة: المطعون، والمبطون، والغرق، وصاحب الہدم، والشہید في سبیل اللہ“ روہ البخاري (۲۸۲۹) ومسلم (۱۹۱۴) وفي فتح الباري: ولم یقصد الحصر في شيء من ذلک وقد اجتمع لنا من الطرق الجیدة أکثر من عشرین خصلة فإن مجموع ما قدمتہ مما اشتملت علیہ الأحادیث التي ذکرتہا أربع عشرة خصلة ۔ (فتح الباري: ۴۳/۶) وفي عمدة القاري: وقال القاضي البیضاوي: من مات بالطاعون أو بوجع البطن ملحق بمن قتل في سبیل اللہ لمشارکتہ إیاہ في بعض ما ینالہ من الکرامة بسبب ما کابدہ من الشدة، لا في جملة الأحکام والفضائل۔ (عمدة القاري: ۲۶۱/۲۱) وفي المغني: شہید معرکة الکفار أجرہ أعظم، وفضلہ أکثر، وقد جاء أنہ یشفع فی سبعین من أہل بیتہ، وہذا - أي المقتول ضد البغاة - لا یلحق بہ في فضلہ، فلا یثبت فیہ مثل حکمہ، فإن الشيء إنما یقاس علی مثلہ۔ (۵۳۱/۸) وفي حاشیة البجیرمي: قولہ: (أما الشہید العاري إلخ) وہذا یقال لہ شہید الآخرة فقط، ومعنی کونہ شہید الآخرة أن لہ رتبة فیہا زائدة علی غیرہ لکن الظاہر أنہا لا تبلغ رتبة شہید المعرکة ۔ (حاشیة البجیرمي علی الخطیب: ۲۸۰/۲)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند