• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 17525

    عنوان:

    عرض یہ ہے کہ بینک کا نظام سودی ہونے کے باعث اس کا حرام ہونا روز روشن کی طرح عیاں ہے لیکن کچھ دنوں سے شیطانی وسوسہ یہ آیا ہوا ہے کہ نماز پڑھانے اور اذان دینے کی تنخواہ کو تو چاروں اماموں نے بالاتفاق حرام قرار دیا ہے اور اس ضمن میں احادیث نبوی بھی موجود ہے۔ کچھ حضرات سے رابطہ کیا تو جواب موصول ہوا کہ ان اماموں اور موذنوں کا بھی گھر بار ہے ان کو بھی اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالنا ہے لیکن میرے نزدیک تو یہ کمزور سی تاویل ہے کیونکہ نماز تو ہر مسلمان پر فرض ہے سو اس میں بیوی بثوں کا پیٹ پالنا کس طرح درست ہے۔۔۔۔ اور اس کے علاوہ بینکار بھی تو یہی عذر پیش کرتے ہیں لیکن ان کا عذر آج تک قبول نہیں کیا گیا حتی اسلامی بینکاری میں بھی نہیں جس کے حلال ہونے پر بڑی بڑی شخصیات نے فتوی دیا ہے۔ اس کے علاوہ آج کل ...

    سوال:

    اسلام علیکم مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ بینک کا نظام سودی ہونے کے باعث اس کا حرام ہونا روز روشن کی طرح عیاں ہے لیکن کچھ دنوں سے شیطانی وسوسہ یہ آیا ہوا ہے کہ نماز پڑھانے اور اذان دینے کی تنخواہ کو تو چاروں اماموں نے بالاتفاق حرام قرار دیا ہے اور اس ضمن میں احادیث نبوی بھی موجود ہے۔ کچھ حضرات سے رابطہ کیا تو جواب موصول ہوا کہ ان اماموں اور موذنوں کا بھی گھر بار ہے ان کو بھی اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالنا ہے لیکن میرے نزدیک تو یہ کمزور سی تاویل ہے کیونکہ نماز تو ہر مسلمان پر فرض ہے سو اس میں بیوی بثوں کا پیٹ پالنا کس طرح درست ہے۔۔۔۔ اور اس کے علاوہ بینکار بھی تو یہی عذر پیش کرتے ہیں لیکن ان کا عذر آج تک قبول نہیں کیا گیا حتی اسلامی بینکاری میں بھی نہیں جس کے حلال ہونے پر بڑی بڑی شخصیات نے فتوی دیا ہے۔ اس کے علاوہ آج کل جو بے روزگاری ہے اس صورت میں بندہ کہاں جائے اس سیاق میں ایک بریلوی مفتی کا فتوی پڑھا جس میں لکھا تھا کہ اگرچہ حدیث کی رو بینکاری کا حرام ہونا چابت ہے لیکن قاعدہ کہ تغیر وقت کے ساتھ فتوی تبدیل ہوجاتا ہے لہذا اس بے روزگاری کے دور میں بینک میں کام کرنا جائز ہےلیکن اس میں سودی اکاونٹ نہ کھلوایا جائےیہ تاویل کس حد تک درست ہے؟ نیز یہ بینک کی طرف سے دی جانے والی سہولیات استعمال کرنا کیسا ہے حالانکہ عام بینک کاکرنٹ اکاونٹ بھی سودی ہوتا ہے کہ اس میں موجود پیسہ بینک سودی کاموں میں استعمال کرتا ہے؟ برائے کرم ان الجھنوں کو دور فرما کر میرئ رہنمائی فرمائے.

    جواب نمبر: 17525

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ل):1871=380tl-12/1430

     

    اذان اور امامت پر سودی ملازمت کو قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے، اذان اور امامت پر اجرت کے جواز کا فتویٰ جس مقصد اور ضرورت کی وجہ سے دیا گیا وہ ضرورت سودی ملازمت میں نہیں پائی جاتی، تفصیل اس کی یہ ہے کہ پہلے موٴذن اور امام کے وظائف بیت المال سے مقرر ہوتے تھے، آہستہ آہستہ جب بیت المال ختم ہوگئے اور علماء، فقہاء، موٴذنین اور ائمہ کے وظائف بند ہوگئے تو اس وقت کے علمائے کبار نے اذان، امامت اور تعلیم کی اجرت کے جواز کا فتویٰ دیا تاکہ دین کا ضیاع لازم نہ آئے، رہا یہ مسئلہ کہ جب نماز ہرمسلمان پر فرض ہے تو اس سے بیوی بچوں کا پیٹ پالنا کس طرح درست ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہرمسلمان پر نماز ہی فرض ہے وقت کو فارغ کرکے ایک خاص مسجد میں اذان و امامت کرنا فرض نہیں، ائمہ وموٴذنین بھی عام مسلمانوں کی طرح آزاد ہیں، جہاں چاہیں نماز ادا کریں، اگر یہی حال ہوجائے تو کتنی مسجدیں ویران ہوجائیں اور کتنی مسجدوں میں ہرکس وناکس امامت کرنے لگیں، اس ضرورت کے پیش نظر اذان، امامت، تعلیم کی اجرت کو جائز کیا گیا، یہ بات سودی ملازمت میں حاصل نہیں،آدمی اس کے علاوہ جائز ملازمت کرنے میں آزاد ہے۔ اس لیے ایسی ملازمت کرنا جس میں سود پر لینے، دینے، لکھنے اورگواہی دینے کے اعتبار سے تعاون ہو، وہ ملازمت کرنا ناجائز ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند