• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 170618

    عنوان: ایجوکیشن ہیلپینگ پلان كے بارے میں

    سوال: یہ جوصورت ہے اس کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے جائز ہے یا نہیں؟ برا مہربانی مدلل جواب عنایت فرمائیں مندرجہ زیل صورت اور بندہ لنک کے ساتھ ارسال کیا ہے تاکہ تحقیق کیلئے آسانی ہو Page link http://helpingeducationcenter.in/index.php Video link kaise join hona hai https://youtu.be/KDgSO_gelME Referral code () only for muslim ایجوکیشن ہیلپنگ پلان آئیے ایجوکیشن ہیلپنگ پلان کے بارے میں پڑھتے ہیں کہ یہ حقیقت میں ہے کیا؟ در اصل بات یہ ہے مسلمانوں کا بعض طبقہ جو روزانہ مزدوری کرکے کھاتا ہے فی یوم ۳۰۰ سے ۳۵۰ روپئے روزانہ کی آمدنی ہوتی ہے جو صرف گھریلو اخراجات میں خرچ ہوجاتی ہے لیکن اگر کسی ضرورت کی وجہ سے قرضہ کا بوجھ انکے سر چڑھ جاتا ہے تو انکی حالت خراب ہوجاتی ہے وہ اس سے نکل ہی نہیں پاتے خاص کر سودی قرض سے ایسے طبقہ کی ہیلپ کرنے کے لئے یہ پلان بنایا گیا ہے اب مارکیٹ میں کافی ایسے امدادی پلان ہے جو ایک آدمی کو ۲۰۰۰ روپے سے لے کر ۲۰ لاکھ روپے تک کا تعاؤن فراہم کرتی ہیں خود انڈین گورمینٹ نے ڈاک خانہ کے اشتہار کے لئے ایک پلان بنایا ہے جس میں ایک آدمی ۲۰۰۰ ہزار روپے دیکر داخلہ لیتا ہے اور ساتویں lavel تک ۵۷لاکھہ روپے لے کر خروج کرتا ہے اس جیسے پلان میں پروڈکت نہ ہونے اور پورا مدار چین سسٹم پر ہونے کی وجہ سے بلا اختلاف یہ ناجائز ہوتے ہیں لیکن مالی تعاؤن اچھا خاصہ ہوتا ہے اسی کو دیکھتے ہوئے ہمارے نوجوان بغیر تحقیق کئے اس میں جوائن ہوجاتے ہیں اور غلط طریقہ سے مال کماتے ہیں مجبوری آدمی کیا کچھ نہیں کرواتی مارکیٹ کے ان حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نے یہ مشورہ کیا کہ کیوں نہ ہم اسکو مفتیان کرام کے سامنے پیش کریں جو ہماری احسن طریقے سے رہبری کریں اور ہمیں حلال راستہ دکھائیں تو اللہ کے فضل سے اور علماء و مفتیان کرام کے کاوشوں سے ہم اس نتیجہ پر پہنچ گئے کہ ہم نے پہلے مرحلہ میں چین سسٹم کو ہی سرے سے ختم کرڈالا اس ایجوکیشن ہیلپنگ پلان میں کسی قسم کی قیودات نہیں ہیں (مثلا۲ آدمیوں کو جوڑنا ایک کو لیفٹ میں لگانا ایک رائٹ کو میں وغیرہ وغیرہ ) پھر مال کے دگنے چوگنے ہونے کا جو پلان تھا یہ تعاؤن بلاعوض والی شکل تھی گرچہ یہ سود نہیں ہوتا تھا لیکن شبہ سودکا اندیشہ ہورہا تھا اسلئے مشورہ ہوا کہ پروڈکٹ رکھاجائے لیکن پروڈکٹ کیا رکھا جائے اس پے بات آکر رک گئی کیوں کہ پورا ۲۰۰۰ ہزار کا پروڈکٹ دیاگیا تو پھر مالی تعاؤن کیسے ہوگا اسلئے فیصلہ ہوا کہ تعلیمی پیکیجس رکھے جائیں کیوں کہ ایجوکیشن کا کوئی مول نہیں ہوتا وہ انمول ہوتا ہے اب تو یہ ہمارے بلکل ہی حلال بن گیا اس میں تھوڑا سا بھی شبہ نہیں رہا کوشش کرنے والوں کی ہار نہیں ہوتی اور اسلام ایسا مذہب ہے اس میں ہر مسئلہ کا حل موجود ہے کوئی اپنے مسائل قرآن و حدیث پے پیش کرکے تو دیکھے خیر! اب یہ آپکے سامنے ایجوکیشن ہیلپنگ پلان ہے مثلا ایک شخص زید دو ہزار روپے دے کر ایجوکیشن پکج لیتا ہے تو ہم اسکو ہر ماہ ایک خاص رسالہ پوسٹ یا کسی اور ذریعہ گھر پے بھجوا ئیں گے اسکے بعد عمر اور بکر دو لوگ جوائن ہونگے (یاد رہے عمر اور بکر کو جوڑنا یہ زید کے ذمہ ضروری نہیں ہیں ہم نے اپنے نمائندے کام میں لگا رکھے نگے جو اس سسٹم پر مستقل کام کرتے رہیں گے ) تو عمر اور بکر کے سامنے زید کا اکاؤنٹ show ہوگا یہ دونوں رسالہ کے پیسے ہمیں دینے کے بجائے ہمارے کہنے سے زید کو دینگے تو کل زید کو ۴۰۰۰ ہزار کی رقم ہمارے طرف سے بصورت تعاؤن پہنچ جائے گی اسی طرح اب عمر کا نمبر ہے جیسے اور دو لوگ ہمارا سسٹم لاتا ہے تو ان دو کو بھی ماہ نامہ رسالہ شروع ہوجائیگا اور یہ دنوں اپنی رقم ہمارے کہنے سے عمر کے اکاؤنٹ پر ٹرانسفر کردیں گے ایسے ہی یہ پہلا step والا سلسہ ۱۰۰ فی صد کی رفتار سے چلتا رہیگا ان شاء اللہ تعالی اب آئیے سمجھتے دوسرے سٹیپ کو یہ بات یاد رہے ہر سٹیپ کو پورا کرنا بھی ضروری نہیں جو جس سٹیپ اور مرحلہ میں کسی بھی وقت entry کرنا چاہے تو کر سکتا ہے کوئی قید نہیں ہاں اگر آپ سسٹم سے چلتے رہیں گے تو کام کرنے میں ہمیں آسانی ہوگی تو دوسرے step میں اگر زید entry لینا چاہتا ہے تو ۲۰۰۰ ہزار روپئے سے تعلیمی پکج لیگا جس میں خاص مسائل کا علم ہوگا جسکاجاننا ہر مرد و عورت کے لئے ضروری ہے اس کے کل دو سے تین حصہ ہونگے جسکو تیسرے step میں بھی دیا جائیگا تو اب پلہے سے نکل کر دوسرے مرحلہ میں داخل ہونے والے کل ۴ افراد ایسے ہونگے جن کے سامنے زید کا اکاؤنٹ دکھائی دے گا اب یہ لوگ اس ایجوکیشن پکج کو خریدنے کے بعد رقم ہمیں دینے کے بجائے زید کو دیں گے تو کل زید کو یہاں ۸۰۰۰ ہزار کی رقم دستیاب ہوگی اس طرح زید کے بعد عمر پھر بکر کا نمبر ہوگا اسی طرح دوسرا والا مرحلہ بھی اپنی رفتار سے چلتا رہیگا ان شاء اللہ تعالی اب تیسرا مرحلہ اس میں زید کو داخلہ لینے کے بعد بچا ہوا ضروری مسائل والا پکج ملیگا زید کے سامنے جسکا اکاؤنٹ شو ہوگا وہ اپنی اماؤنٹ اسکوٹرانسفرکردیگااور جب زید کا نمبر آئیگا تو کل ۵ لوگ پکج خریدنے کے بعد رقم زید کوٹرانسفر کریں گے تو کل اس سٹیپ میں زید کو ۳۰ ہزار رقم کی ہیلپ ہوگی اسطرح باقی والوں کا نمبر آتا جائیگا اور یہ سٹیب بھی اپنی سپیڈ سے چلتا ر ہے گا۔ان شاء اللہ تعالی

    جواب نمبر: 170618

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 882-82T/M=10/1440

    مذکورہ ایجوکیشن ہیلپنگ پلان کی جو حقیقت آپ نے تحریر فرمائی ہے اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ غریب لوگوں کی معاشی امداد کی اسکیم ہے لیکن جو عنوان ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک تعلیمی اسکیم ہے، صحیح صورت حال کیا ہے یہ واضح نہیں، اگر تعلیم مقصد ہے تو جو غریب بالکل جاہل ہے وہ آپ کے بھیجے ہوئے رسالہ کو کس طرح پڑھ پائے گا اور اگر معاشی تعاون مقصود ہے تو ہر ماہ اسے رسالہ بھیجنے کی کیا ضرورت ہے؟ نیز آپ نے لکھا ہے کہ مثلاً ایک شخص زید دو ہزار روپئے دے کر ایجوکیشن پیکج لیتا ہے ․․․․․․․ اس کے بعد عمر اور بکر دو لوگ جوائن ہوں گے ان کے مسائل زید کا اکاوٴنٹ Showہوگا اور وہ دونوں دو دو ہزار روپئے بصورت تعاون زید کے اکاوٴنٹ میں ڈال دیں گے ․․․․․ یہاں سوال یہ ہے کہ اگر زید کے بعد دوسرے دو لوگ جوائن نہ ہو سکیں تو پھر زید کا تعاون کس طرح ہوگا کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ مزید دو لوگ اور جڑ ہی جائیں؟ نیز ایک دوسرا سوال یہ ہے کہ ہر ماہ رسالہ کا خرچ کس طرح اور کس کی رقم سے پورا ہوگا؟ یہ سب چیزیں واضح نہیں ہیں اس لئے اس بابت کوئی رائے تحریر کرنے سے معذرت ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند