• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 168207

    عنوان: كیا تنخواہ گھنٹوں كے حساب سے مقرر كی جاسكتی ہے؟

    سوال: امید ہے کہ مفتیان کرام بخیر وعافیت ہوں گے ۔ آپ حضرات کی خدمت میں چند سوالات پیش کئے جاتے ہیں۔ ۱) ایک شخص کسی حافظ صاحب کو اپنی مسجد میں بٹھاتے ہیں حفظ پڑھانے کے لئے ۔ سوال یہ ہے کہ حافظ صاحب کے لئے تنخواہ کس طرح مقرر کی جائے ؟ گھنٹوں کے حساب سے تنخواہ دی جائے کہ ایک ایک گھنٹے کے عوض میں مثلا پندرہ ڈالر مقرر ہو؟ یا ایک ایک شاگرد کے حساب سے مقرر کی جائے کہ جتنے شاگر ان کے ما تحت پڑھیں گے ، ان کو ایک ایک شاگرد کے عوض میں مہینے کے سو ڈالر مل جائیں؟ بتائیے کہ دونوں طریقوں میں سے کونسا درست ہے اور کونسا غلط ہے ۔اگر دونوں صحیح ہے تو بتائیے اور اگر دونوں غلط ہے تو صحیح طریقہ پر روشنی ڈالئے ۔ ۲) سوال نمبر ایک اگر کتابیں پڑھانے کے متعلق ہو تو کیا جوا ب ہوگا؟ یعنی اگر کسی کو مسجد میں کتابیں پڑھانے کے لئے بٹھا دیا جائے ، تو تنخواہ فی گھنٹہ ہونا چاہئے یا فی طالب علم؟ اگر انٹرنٹ پر کتابیں پڑھائیں، تو فی طالب علم تنخواہ لینا درست ہے ؟ ۳) کسی کے پاس خالی زمین کا ٹکڑا ہے ۔ وہ اپنی زمین کسی ایسے شخص کو بیچنا چاہ رہا ہے جو اس کو چار حصوں میں تقسیم کر کے اس پر چار الگ الگ گھر بنا کر پیچنے کا ارادہ کر رہا ہے ۔ زمین پیچنے والا پانچ لاکھ ڈالر بھی مانگ رہا ہے اور ان چار گھروں میں سے ایک گھر بھی مانگ رہا ہے ۔ یہ معاملہ درست ہے یا نہیں؟ اگر مذکورہ بالا طریقہ درست نہیں ہے ، تو مقصد پورا کرنے کا (یعنی پیسے اور گھر مشتری سے لینے کا)صحیح طریقہ کیا ہے ؟ نیز، اگر زمین بیچنے والا پوری زمین کے دے کر صرف ایک ٹکڑے پر گھر بنوانا چاہے ، مزید پیسے لئے بغیر، تو کیا حکم ہے ؟ ۴) کسی نے امریکہ میں گھر خریدا مصلی کھولنے کی نیت سے ۔ انہوں نے اپنے خود کے نام پر گھر خریدا اور لوگوں سے چندہ وصول کیاگھر کی ترمیم کے لئے ، اندر کے حصے کو مصلی کی شکل میں بنانے کے لئے ، باہر پارکنگ کا انتظام کرنے کے لئے ، مختلف انسپکشن کرانے کے لئے (جو کہ قانونی طور پر لازمی تھے )۔ پھر انہوں نے مصلی چلانے والوں کا ایک organization بنایا۔ وہ خود گھر کے مالک ہیں اور انہوں نے گھر کرایہ کے طور پر دیا ہوا ہے organization کو (کاغزات میں یہ لکھا ہوا ہے کہ کرایہ مفت میں ہے اور وہ فی الواقع پیسے لیتے بھی نہیں۔) چونکہ وہ خود گھر کے مالک ہیں گھر کا land tax وہ خود اداء کرتے ہیں۔ اگر organization کو گھر کا مالک بناتے ، تو land tax دینا نہ ہوتا، چونکہ یہ non-profit organization ہے ۔ اب یہ آدمی (چونکہ ہر سال ٹیکس اداء کرنے میں چند ہزار ڈالر ان کے جیب سے خرچ ہوتے ہیں) وہ مصلی کے چندے کے پیسوں سے اداء کرنا چاہتے ہیں، چونکہ وہ مصلی کو اپنی ذاتی مفاد میں استعمال کرتے ہی نہیں، وہ صرف مصلی کے طور پر استعمال ہوتا ہے ۔یہ درست ہے کہ مصلی کے چندے کے پیسوں سے land tax اداء کیا جائے ؟ ۵) اگر کسی نے سجدہ تلاوت والی آیت سنی لیکن اس کو معلوم نہیں کہ یہ سجدہ تلاوت والی آیت ہے ، تو اس پر سجدہ تلاوت واجب ہے یا نہیں؟ مثلا کوئی مسجد چلا جائے جہاں لڑکے زور سے قرآن کی تلاوت کر رہے ہیں اور اس نے سجدہ والی آیت سنی۔ سجدہ تلاوت واجب ہوا یا نہیں؟ اگر بعد میں معلوم ہو جائے کہ سجدہ تلاوت والی آیت اس نے سنی، تو سجدہ تلاوت کرنا واجب ہے یا نہیں؟ ۶) اگر حنفی مقتدی نماز پڑھے شافعی امام کے پیچھے ، اور شافعی امام نے خون نکلنے کے بعد دو بارہ وضوء کئے بغیر نماز پڑھائی ، تو حنفی مقتدی کی نماز ہوئی یانہیں؟ بعد میں امام کا خون نکلنے کا علم ہونے اور نہ ہونے سے فرق پڑے گایا نہیں؟ چھ سوالات کا جواب مرحمت فرمائیے ۔ بینوا توجروا۔

    جواب نمبر: 168207

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:500-121T/N=12/1440

    (۱): فی گھنٹہ تنخواہ کا حساب بھی درست ہے اور فی طالب علم کا بھی؛ البتہ فی طالب عالم کے حساب میں وقت کی تعیین بھی ضروری ہے، مثلاً استاذ روزانہ ۵یا ۶/ گھنٹے تعلیم دے گا ۔

    (۲): کتاب پڑھانے کی صورت میں بھی یہ دونوں شکلیں جائز ہیں۔

    (۳): زمین مالک کا بلڈر کے ہاتھ ۵/ لاکھ ڈالر اور ایک گھر کے عوض زمین فروخت کرنے کا معاملہ درست ہے، اس میں شرعاً کچھ قباحت نہیں، اس صورت میں زمین کا کچھ حصہ مستثنی ہوکر زمین کا ثمن ۵/ لاکھ ڈالر اور ایک گھر ہوگا۔ اور اگر کوئی مالک زمین اپنی پوری زمین بلڈر کے ہاتھ صرف ڈالر کے عوض فروخت کرے، بلڈر سے کوئی گھر یا فلیٹ نہ لے تو یہ بھی جائز ہے۔

    (۴): جب مصلی کی زمین اور اس کی عمارت کا مالک مصلی اپنے کسی ذاتی کام میں استعمال نہیں کرتا ہے؛ بلکہ وہ نماز اور دیگر دینی عوامی کاموں میں ہی استعمال ہوتا ہے تو چندہ دہندگان کے علم میں لاکر چندے کی رقم سے اس کا ٹیکس ادا کرنا بھی درست ہے، اس میں شرعاً کچھ مضائقہ نہیں؛ البتہ اگر آئندہ کبھی مالک نے مصلی ختم کرکے اُسے ذاتی کام میں استعمال کرنا شروع کردیا تو اس کا ٹیکس وہ خود ادا کرے گا۔

    (۵): اگر کسی نے آیت سجدہ سنی تو سجدہ تلاوت واجب ہونے کے لیے معلوم ہونا ضروری نہیں؛ البتہ معلوم نہ ہونے کی صورت میں وہ معذور شمار ہوگا، اسی طرح اگر دیر سے معلوم ہوا تو تاخیر کے سلسلہ میں بھی معذور ہوگا۔

    ولو قرأ بالعربیة یلزمہ مطلقاً؛ لکن یعذر بالتأخیر مالم یعلم…کذا في الخلاصة (الفتاوی الھندیة، کتاب الصلاة، الباب الثالث عشر في سجود التلاوة، ۱: ۱۳۳، ط: المطبعة الکبری الأمیریة بولاق، مصر)، أما لو کانت بالعربیة فإنہ یجب بالاتفاق فھم أو لا، لکن لا یجب علی الأعجمي مالم یعلم کما في الفتح، أي: وإن لم یفھم (رد المحتار، کتاب الصلاة، باب سجود التلاوة، ۲: ۵۷۷، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔

    (۶): اگر کسی شافعی نے خون نکلنے کے بعد وضو نہیں کیا اور نماز پڑھادی تو حنفی مقتدیوں کی نماز نہیں ہوگی؛ البتہ نماز لوٹانے کا حکم معلوم ہونے پر ہوگا، اور معلوم نہ ہونے کی صورت میں آدمی شرعاً معذور سمجھا جائے گا۔

    وإذا ظھر حدث إمامہ وکذا کل مفسد في رأي مقتد بطلت فیلزم إعادتھا لتضمنھا صلاة الموٴتم صحة وفساداً الخ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب الإمامة، ۲: ۳۳۹، ۳۴۰، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قال (في شرح المنیة): وأما الاقتداء بالمخالف في الفروع کالشافعي فیجوز مالم یعلم منہ ما یفسد الصلاة علی اعتقاد المقتدي، علیہ الإجماع، إنما اختلف في الکراھة اھ (رد المحتار، کتاب الصلاة، باب الإمامة، ۲: ۳۰۲)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند