• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 1656

    عنوان:

    (۱)کتاب ?زلزلہ در زلزلہ? کس نے لکھی ہے؟ (۲)کیا کوئی اپنے بیوی کے مقعد میں دخول کرسکتاہے؟ (۳)کیا کوئی اپنی بیوی کے پستان کو چوس سکتاہے؟ (۴)کیا کوئی اپنی بیو ی کے ہر عضو کو چوم سکتاہے؟ (۵)کیا اپنی بیوی کے پیچھے کی طرف سے دخول کرنا ممنوع ہے؟

    سوال:

    (۱)کتاب ?زلزلہ در زلزلہ? کس نے لکھی ہے؟

    (۲)کیا کوئی اپنے بیوی کے مقعد میں دخول کرسکتاہے؟

    (۳)کیا کوئی اپنی بیوی کے پستان کو چوس سکتاہے؟

    (۴)کیا کوئی اپنی بیو ی کے ہر عضو کو چوم سکتاہے؟

    (۵)کیا اپنی بیوی کے پیچھے کی طرف سے دخول کرنا ممنوع ہے؟

    جواب نمبر: 1656

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 541/ م= 537/ م

     

    (۱) مذکورہ کتاب کے مصنف ?نجم الدین احیائی فاضل دیوبند? ہیں۔

    (۲) نہیں کرسکتا ہے، یہ حرام و ناجائز ہے لقولہ علیہ السلام: ?لاتأتوا النساء في أدبارھن? (الحدیث)

    (۳) بیوی کے پستان کو چوس سکتا ہے لیکن دودھ نہیں پی سکتا کہ یہ حرام و ناجائز ہے، لہٰذا جس مانے میں دودھ نکلنے کا اندیشہ ہو اس وقت پستان منھ میں لینے سے احتراز کرے۔

    (۴) شرم گاہ کے علاوہ ہو تو اجازت ہے، شرم گاہ کو زبان لگانا مکروہ اور بے حیائی کی بات ہے کما فی الہندیہ۔

    (۵) مقام وطی و حرث میں جس کیفیت کے ساتھ ہو دخول کرسکتا ہے لقولہ تعالیٰ: ?فَاْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِئْتُمْ? (الآیة) بنا بریں پیچھے کی طرف سے بھی دخول کرسکتا ہے البتہ بیوی کے پچھلے مقام میں صحبت کرنا ممنوع ہے کما مر فی الحدیث۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند