• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 164731

    عنوان: غیرمسلم کو زمین فروخت کرنا

    سوال: ہمارے باپ داد کی مشترکہ زمین ہے جو تقریبا 59 گنٹے ہیں زمین چوکہ سرکری اعتبار سے الگ الگ زون میں منقسم ہیں مثلا آر زون ، سی آر زون وغیرہ اس وجہ اس کی حصص کے اعتبار سے تمام بھائیوں اور چچا کے بیٹے بیٹیوں میں تقسیم مشکل ہے ، تقسیم کے لئے یہی صورت بہتر سمجھ میں آرہی کہ اسے کسی بڑے بلٹر کو فروخت کیا جائے یا ڈویلپمنٹ کے لئے دیا جائے بڑے بٹلر کو دینے کی صورت میں مسئلہ یہ پیش آرہا کہ ہمارے اس علاقے میں بڑے بلٹر غیر مسلم ہے غیر مسلم کو ڈیلپمینٹ کو دینے کی صورت میں 50 فیصد یا 45 فیصد فلیٹ ہمیں ملے گے اور باقی اس غیر مسلم بلٹر کو، وہ اپنے فلیٹ مسلمان کو بھی فروخت کرسکتا اور غیر مسلم کو بھی ، اس کے فلیٹ غیر مسلم کو بیچنے کی صورت میں غیر مسلم وہاں پوجا پاٹ کرے گے اور انکے تمام تہوار گنپتی وغیرہ وہاں سے نکالے گے تو کیا ایسی صورت میں غیر مسلم بلٹر کو زمین ڈیلپ کے لئے دینا جائز ہے اور دینے کی صورت میں ہم گنہگار نہیں ہوگے برائے کرم رہنمائی فرمائیں ۔۔نوٹ بڑے بلٹر کو اس لئے دینا ضروری ہے کہ زمین مختلف زون ہونے کی وجہ سے سرکاری اعتبار سے ڈویلپمینٹ کے لئے جو رکاوٹیں ہیں وہ وہی دور کراسکتا ہے نیز مسلم بڑے بلٹر دوسرے علاقوں سے ہمارے علاقے میں ڈویلپمینٹ یا زمین خریدنے کے لئے آمدہ نہیں ہوتے ہیں۔

    جواب نمبر: 164731

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 1334-1060/SN=1/1440

    اگر تمام ورثاء باہمی رضامندی سے مذکور فی السوال دونوں طریقوں میں سے کوئی طریقہ اختیار کرلیں تو شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، جائز ہے، مسلم بلڈر نہ ہونے کی وجہ سے اگر غیر مسلم بلڈر کو ڈیولپمنٹ کے لئے دیدیں تو اس کی بھی گنجائش ہے، اگر کوئی غیر مسلم فلیٹ خریدنے کے بعد اس میں پوجا پاٹ وغیرہ کرے تو اس کا ذمے دار وہ خود ہوگا، اس کی وجہ سے آپ لوگ گنہ گار نہ ہوں گے۔

    نوٹ: بلڈر کو ڈیولپمنٹ کے لئے دینے سے پہلے جن شرائط کے ساتھ بلڈر کو دیا جائے گا کسی معتبر مفتی سے ان کی تصدیق کرالی جائے؛ تاکہ بلڈر کے ساتھ معاملہ شریعت کے مطابق ہو۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند