• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 164376

    عنوان: موبائل کی دکان پر جو لوگ موبائل چھوڑ کر چلے جاتے ہیں ان موبائلوں کو کیا کیا جائے؟

    سوال: حضرت، میری موبائل کی دکان ہے ۔ میرے پاس کسٹمر موبائل لے کر آتے ہیں اور صحیح کرانے کے لئے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں، تو ابھی کافی موبائل ایسے ہیں جنہیں کسٹمر لینے اب تک نہیں آئے، کچھ کسٹمر سال بھر سے نہیں آئے اپنے موبائل لینے، نہ دوبارہ دکھے مجھے وہ لوگ، نہ ان سے کوئی رابطہ ہے میرا، تو میں ان موبائل کا کیا کروں؟ کیا میں اس کے پارٹس (اجزاء) اپنے استعمال میں لاسکتا ہوں یا نہیں؟ کچھ موبائل میں نے ٹھیک نہیں کرے ہیں اور نہ وہ ٹھیک ہو رہے ہیں۔ لیکن لینے کوئی نہیں آیا اب تک ان موبائلوں کو۔ مجھے اب ایسی صورت میں کیا کرنا ہے؟ آپ حضرات میری رہنمائی فرمائیں کیونکہ کسی اور کی چیز ہے اور اب وہ آنہیں رہے ہیں، مجھے فکر ہے اپنی آخرت کی کہ کہیں وہاں مجھ سے سوال نہ ہو کہ میرے پاس لوگوں کے موبائل ہیں اور وہ لے نہیں گئے اب تک۔ براہ کرم، جلدی بتائیں میں اس مسئلہ میں بہت پریشان ہوں ۔ جزاک اللہ

    جواب نمبر: 164376

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 1239-231T/SN=1/1440

    صورت مسئولہ میں آپ کوشش کرکے جن لوگوں کے موبائل ہیں ان کے رابطہ نمبر وغیرہ حاصل کرلیں اور انہیں اطلاع کردیں کہ اپنا موبائل لے جائیں، اگر وہ نہیں آتے یا کوشش کے باوجود ان سے رابطہ ہی نہ ہوسکے اور آپ کو یہ غالب گمان ہو جائے کہ اب یہ لوگ موبائل لینے نہیں آئیں گے تو جن موبائلوں کو آپ نے ٹھیک نہیں کیا، انہیں غریبوں کو دیدیں اور جنہیں آپ نے ٹھیک کیا ہے اور آپ کے پیسے موبائل مالکوں کے ذمے واجب الاداء ہیں، ان موبائلوں کو آپ فروخت کرکے اپنا پیسہ وصول کرلیں اور جورقم بچ جائے وہ اپنے پاس محفوظ کرلیں، اگر آئندہ کبھی مالک آجائیں تو انہیں دیدیں ورنہ (آنے سے مایوسی کی شکل میں) صدقہ کردیں؛ البتہ یہ واضح رہے کہ صدقہ کرنے اور غریبوں کو دیدینے کے بعد اگر مالک آگیا تو پھر آپ کو موبائل یا اس کی قیمت اسی طرح (ثانی الذکر صورت میں) مابقیہ پیسہ مالک کو واپس کرنا ہوگا، ایسی صورت میں غریبوں کو آپ نے جو کچھ دیا ہے وہ آپ کی طرف سے صدقہ ہوجائے گا اور آپ کو اس کا اجر ملے گا ان شاء اللہ۔ ندب رفعہا لصاحبہا ․․․․ و وجب ․․․․․ عند خوف ضیاعہا ․․․․․․ فینتفع الرافع بہا لو فقیراً وإلا تصدق بہا علی فقیر ولو علی أصلہ وفرعہ ․․․․․ فإن جاء مالکہا بعد التصدق خیر بین اجازة فعلہ ․․․․․ أو تضمینہ ․․․․ فیملکہا ! الملتقط من وقت الأخذ ویکون الثواب لہ خانیة (درمختار مع الشامی: ۶/۴۳۳تا ۴۳۹، ط: زکریا)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند