• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 164133

    عنوان: رکشا بندھن، ہولی اور دیوالی وغیرہ کے موقعہ پر راکھی، رنگ اور پچکاری وغیرہ کا کاروبار کرنے کا حکم

    سوال: حضرت، میرا سوال یہ ہے کہ میری ایک جنرل اِسٹور کی دکان ہے جس میں کئی طرح کے آئٹم بیچتا ہوں اور موسم آنے پر راکھی، رانگ، پچکاری اور دیوالی کی موم بتی بھی بیچتا ہوں، ان آئٹم کو بیچنا صحیح ہے یا نہیں؟

    جواب نمبر: 164133

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:1227-1024/N=11/1439

    ہولی، دیوالی اور رکشا بندھن، ہندوٴں کے خالص مذہبی تہوار ہیں؛ اس لیے ان تہواروں کے موقعہ پر بہ طور خاص مذہبی امور کی انجام دہی میں جو چیزیں استعمال ہوتی ہیں، یعنی: راکھی، رنگ، پچکاری اور دیوالی کی موم بتیاں وغیرہ، ان کا کاروبار مسلمان کے لیے مکروہ وناجائز ہے؛ کیوں کہ ان چیزوں کا کاروبار کرنے میں غیروں کا ان کے مذہبی امور میں تعاون لازم آتا ہے؛ اس لیے آپ اپنے جنرل اسٹور پر ہولی،دیوالی وغیرہ کے موقعہ پر اس طرح کی چیزیں ہرگز فروخت نہ کیا کریں۔

    قال اللہ تعالی :ولا تعاونوا علی الإثم والعدوان (سورة المائدة، رقم الآیة: ۲)، وقال العلامة المفتي محمد شفیع رحمہ اللہ تعالی في ”تفصیل الکلام في مسئلة الإعانة علی الحرام“:وإن لم یکن -السبب- محرکا وداعیا بل موصلا محضا وھو مع ذلک سبب قریب بحیث لایحتاج في إقامة المعصیة بہ إلی إحداث صنعة من الفاعل کبیع السلاح من أھل الفتنة وبیع العصیر ممن یتخذہ خمراً وبیع الأمرد ممن یعصي بہ وإجارة البیت ممن یبیع فیہ الخمر أو یتخذھا کنیسة أو بیت نار وأمثالھا فکلہ مکروہ تحریما بشرط أن یعلم بہ البائع والآجر من دون تصریح بہ باللسان فإنہ إن لم یعلم کان معذوراً وإن علم وصرح کان داخلاً فی الإعانة المحرمة (جواہر الفقہ، ۲: ۴۴۷، وص: ۴۵۵، ۴۵۶أیضاً ، ط: قدیم) ۔ 


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند