• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 156576

    عنوان: دو فریقوں کے درمیان صلح صفائی كرانے كو كہے اور وہ ایسا نہ كرسكے توب كیا حكم ہے؟

    سوال: سلا م میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ دو حضرات کے درمیان کچھ رنجش نا را ضگی تھی، ایک نے اپنے بھا ئی سے صلح کر ا نے کو کہا، اس بھائی نے دونوں کے درمیاں کا فی غلط بیانی کہ اب ان میں سے ایک فوت ہو گیا ،تب وہ بندہ گویان ہوا کہ اس نے مجھے کافی صلح کو کہا تھا، پر میں نے آپ کو نہیں کہا اس بندے کے بارے میں کیا کہیں گے ؟

    جواب نمبر: 156576

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:267-196/sn=3/1439

    دو فریقوں کے درمیان صلح صفائی کرانے کی حدیث میں بڑی فضیلت آئی ہے جب کہ دو فریقوں کے درمیان فساد ڈالنے پر بہت سخت وعید آئی ہے، صورت مسئولہ میں اس شخص نے ایک فریق کی طرف سے کہنے کے باوجود صلح نہ کراکے بہت غلط کیا، اگر اس نے واقعةً دونوں کے درمیان غلط بیانی کی ہے تب تو بہت بڑے گناہ کا کام کیا، بہرحال اس شخص کو چاہیے کہ توبہ واستغفار کرے اور آئندہ ایسا ہرگز نہ کرے، اور باہم رنجش رکھنے والے دونوں افراد میں سے جو زندہ ہے اسے چاہیے کہ وفات پانے والے شخص کو معاف کردے اگر اس کی طرف سے کوئی زیادتی ہوئی ہو، نیز اگر باحیات شخص کی طرف سے اگر زیادتی ہوئی تھی یا دونوں نے ترک کلام وغیرہ کا ارتکاب کیا ہو تو اپنے فعل سے توبہ واستغفار کرے۔ قال رسول اللہ -صلی اللہ علیہ وسلم- ألا أخبرکم بأفضل من درجة الصّیام والصلاة والصدقة، قالوا: بلی یا رسول اللہ! قال: إصلاح ذات البین وفساد ذات البین الحالقة (أبوداوٴد) الحالقة: أی الماحیة والمزیلة للمثوبات والخیرات، والمعنی یمنعہ شؤم ہذا الفعل عن تحصیل الطاعات والعبادات․ (مرقاة، رقم: ۵۰۳۷)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند