• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 14797

    عنوان:

    میں اپنی لڑکی کی شادی شدہ زندگی کے بارے میں ایک سوال کرنا چاہتاہوں۔میری لڑکی کا نام مزمل ہے، اس کی شادی کو بارہ سال ہوگئے ہیں۔ اس کے شوہر کا نام ڈاکٹر سعود ببیرے ہے۔ اس کی شادی کے بعد اس کے لڑکے کی پیدائش دو سال کے اندر ہوئی تھی۔ گزشتہ سات سال سے میری لڑکی کے شوہر نے اچانک اپنی بیوی یعنی میری لڑکی کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنا بند کردیا ہے۔ میں ، میری بیوی اور میری بڑی لڑکی کو یہ بات پانچ سال پہلے معلوم ہوئی۔ میری بیوی نے اس بات کو مزمل سے کئی مرتبہ کہا اور میری بیوی نے اس سے کہا کہ ہم تمہارے شوہر سے اس کے بارے میں بات کریں گے تاکہ ہم اس پریشانی کا حل کرسکیں۔ ڈاکٹر سعود اس کو بیلٹ سے مارتے تھے اور اس کیساتھ بہت برابرتاؤ کرتے تھے۔ ہم اس سے کہا کرتے تھے کہ اپنے شوہر کو طلاق دے دے اور گھر واپس آجائے اور یہ کہ اللہ مہربان ہے وہ اس کے لیے سب کچھ کردے گا لیکن وہ اپنے لڑکے کی وجہ سے خوف کھاتی تھی۔......

    سوال:

    میں اپنی لڑکی کی شادی شدہ زندگی کے بارے میں ایک سوال کرنا چاہتاہوں۔میری لڑکی کا نام مزمل ہے، اس کی شادی کو بارہ سال ہوگئے ہیں۔ اس کے شوہر کا نام ڈاکٹر سعود ببیرے ہے۔ اس کی شادی کے بعد اس کے لڑکے کی پیدائش دو سال کے اندر ہوئی تھی۔ گزشتہ سات سال سے میری لڑکی کے شوہر نے اچانک اپنی بیوی یعنی میری لڑکی کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنا بند کردیا ہے۔ میں ، میری بیوی اور میری بڑی لڑکی کو یہ بات پانچ سال پہلے معلوم ہوئی۔ میری بیوی نے اس بات کو مزمل سے کئی مرتبہ کہا اور میری بیوی نے اس سے کہا کہ ہم تمہارے شوہر سے اس کے بارے میں بات کریں گے تاکہ ہم اس پریشانی کا حل کرسکیں۔ ڈاکٹر سعود اس کو بیلٹ سے مارتے تھے اور اس کیساتھ بہت برابرتاؤ کرتے تھے۔ ہم اس سے کہا کرتے تھے کہ اپنے شوہر کو طلاق دے دے اور گھر واپس آجائے اور یہ کہ اللہ مہربان ہے وہ اس کے لیے سب کچھ کردے گا لیکن وہ اپنے لڑکے کی وجہ سے خوف کھاتی تھی۔وہ پورے وقت کی نماز پڑھتی تھی اور ہر دن قرآن شریف پڑھتی تھی اور تقریباً ایک مہینہ میں پندرہ روز کا روزہ رکھتی تھی۔ڈاکٹر سعود اس کے شوہر اس کو خرچ کرنے کے لیے شادی کے دن سے آج تک پیسے نہیں دیتے تھے۔ حتی کہ وہ اس کے لیے کپڑے وغیرہ بھی نہیں لاتے تھے جب کہ وہ اپنے لڑکے اور اپنے اوپر بہت زیادہ پیسے خرچ کرتے تھے۔ ہم اپنی لڑکی یعنی مزمل کے اخراجات امریکہ (اٹلانٹا) سے پورے کرتے تھے ۔ اور اب تقریباً وہ اپنی شادی شدہ زندگی سے تھک چکی ہے۔اور اب وہ میرے گھر انڈیا (بھیونڈی)مہاراشٹر آچکی ہے۔اب وہ اپنے شوہر سے علیحدہ ہونا چاہتی ہے۔میری لڑکی کے گھر آنے کے بعد میرے بھائی اور میرے گھر والوں نے ڈاکٹر سعود کو فون کیا اور ان سے پوچھا کہ آپ اور آپ کی بیوی مزمل کے درمیان کیا معاملہ چل رہا ہے۔انھوں نے ان سے پوچھا کہ کیا مزمل کی طرف سے کوئی بات ہے اور اس کے بعد تمام آٹھ سے نو لوگوں کے سامنے ڈاکٹر سعود نے کہا ?نہیں، میری بیوی مزمل کی طرف سے ایک بھی پریشانی نہیں ہے?۔ اس کے بعد انھوں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ گزشتہ سات سال سے اس کے ساتھ جسمانی تعلق نہیں کررہے ہیں۔ انھوں نے (ڈاکٹر سعود) نے جوا ب دیا کہ میں ایک نامرداور ہجڑا بن چکا ہوں اورانھوں نے اس جواب کو بہت ہی شرمیلے انداز میں دیا اور بہت ہی گھٹیا انداز میں۔ حتی کہ ہم نہیں جانتے ہیں کہ آیا وہ واقعی بیمار ہے یا بیمار بننے کا بہانہ کررہا ہے۔ میں نے قرآن شریف میں پڑھا ہے:للذین یوٴلون من نسائہم تربص اربعة اشہر فان فاوٴوا فان اللّٰہ غفور رحیم۔ میں اوپر مذکور مسئلہ کے بارے میں ایک فتوی چاہتاہوں۔ والسلام

    جواب نمبر: 14797

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1189=1189/م

     

    آپ اس معاملے کو پوری تفصیل کے ساتھ لکھ کر مقامی یا قریبی دارالقضاء یا شرعی پنچایت میں پیش کیجیے، آپ کے داماد کا جوبرتاوٴ آپ کی لڑکی کے ساتھ ہے اس کی صراحت کے بعد لکھئے کہ میری لڑکی اپنے شوہر سے علاحدگی چاہتی ہے، اس لیے آپ اس معاملے کا شرعی فیصلہ کردیجیے۔اراکین محکمہ شرعی پنچایت احوال کی تحقیق وتفتیش کے بعد حسب ضابطہ جو شرعی حکم جاری کریں، اس کے مطابق عمل کیجیے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند