• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 145886

    عنوان: درج ذیل صورت میں حضرت تھانوی کے فتوے پر عمل کیا جاسکتا ہے؟

    سوال: آج کل شادی ہال اور بینکؤٹ میں بلا شبہ اسراف سے کام لیا جاتا ہے ۔ فوٹوگرافی وغیرہ بھی کی جاتی ہے ، تو اسراف تو اپنی جگہ ہے لیکن اگر اس کے علاوہ کوئی اور دوسری معصیت نہ ہو، مثلاً فوٹوگرافی نہ ہو، میوزک اور گانے وغیرہ نہ ہوں،عورتوں اور مردوں کا مخلوط اجتماع بھی نہ ہو، تو غرض یہ کہ شادی ہال یا بینکؤٹ میں مروّجہ روشنی اور سجاوٹ کے انتظام کے علاوہ کوئی اور دوسری معصیت نہ ہو،اور والدین بھی حکماً کہہ رہے ہوں کہ تمہیں چلنا ہوگا۔ اور شادی میں نہ جانے کی صورت میں والدین اور اعزّہ اقرباء کی ناراضگی یقینی ہو، تو پوچھنا یہ ہے کہ آیا اس صورت میں حکیم الامت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی کے درج ذیل ملفوظ پر عمل کیا جاسکتا ہے ؟" تقوٰی کے مقابلہ میں فتوٰی کو کب ترجیح ہوتی ہے ؟" فرمایا کہ حکمِ شرعی یہ ہے کہ اگر تقوٰی کے کسی خاص درجے پر عمل کرنے سے دوسرے کی دل شکنی ہو تو فتوٰی پر عمل کرنا چاہیئے ، ایسے موقع پر تقوٰی کی حفاظت جائز نہیں، چناچہ کسی چیز کے نہ لینے میں اگر اپنی عزّت ہو اور اپنے بھائی کی ذلّت ہو اور لینے میں اپنی تو ذلّت ہو لیکن بھائی کی عزّت ہو تو بھائی کی عزّت کو اپنی عزّت پر ترجیح دے ، یہ ایثارِ نفس ہے، ملفوظات اشرفیہ : ص 372

    جواب نمبر: 145886

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 123-135/L=2/1438

    ان حدود اور قیود کی رعایت کرتے ہوئے کسی ہال میں شادی کا انعقاد ہو رہا ہو، اور والدین تاکیداً حکم کر رہے ہوں تو اس صورت میں ”حکیم الامت رحمہ اللہ “ کے ملفوظ بالا پر عمل کیا جا سکتا ہے اور شرکت کی گنجائش ہوگی۔

    قال ابن عابدین رحمة اللہ علیہ: وفي التاتر خانیة عن الینا بیع: لو دعی إلیٰ دعوة فالوا جب الاجابة إن لم یکن ہناک معصیة ولا بدعة، والامتناع أسلم في زماننا إلا إذا علم یقینا أن لابدعة ولامعصیة۔ (شامی: ۹/۵۰۱، کتاب الخطر والاباحة) ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند