• متفرقات >> دیگر

    سوال نمبر: 10403

    عنوان:

    میں ایک گورنمنٹ صنعت میں کام کرتاہوں۔ کیا میں ٹیکس سے بچنے کے لیے نیچے مذکور ایک یا اس سے زائد میدانوں میں سرمایہ کاری کرسکتاہوں: (۱)ایل آئی سی۔ (۲)یو ایل آئی پی۔ (۳)پی پی ایف۔ (۴)میوچول فنڈ۔ آپ کی اطلاع کے لیے یہ عرض کردیتا ہوں کہ میوچول فنڈ کی اقسام یہ ہیں ایکویٹی، ڈیبٹ اوربیلنس، جہاں میں سرمایہ کاری کرسکتاہوں۔ پی پی ایف (پبلک پروویڈنٹ فنڈ)، کے تحت کمپنی کچھ فنڈ کاٹتی ہے جو کہ ہمیں ہماری نوکری کے اخیر میں ملے گا کمپنی کی طرف سے کچھ عطیات کے ساتھ۔ اس میں رضاکارانہ طور پر پروویڈنٹ فنڈ میں کچھ اضافہ کرنے کا اختیار ہوتا ہے جس کو وی پی ایف (رضاکارانہ پروویڈنٹ فنڈ) کہا جاتا ہے ۔کیا ہم اپنا پیسہ وی پی ایف کے ذریعہ سے بچاسکتے ہیں؟

    سوال:

    میں ایک گورنمنٹ صنعت میں کام کرتاہوں۔ کیا میں ٹیکس سے بچنے کے لیے نیچے مذکور ایک یا اس سے زائد میدانوں میں سرمایہ کاری کرسکتاہوں: (۱)ایل آئی سی۔ (۲)یو ایل آئی پی۔ (۳)پی پی ایف۔ (۴)میوچول فنڈ۔ آپ کی اطلاع کے لیے یہ عرض کردیتا ہوں کہ میوچول فنڈ کی اقسام یہ ہیں ایکویٹی، ڈیبٹ اوربیلنس، جہاں میں سرمایہ کاری کرسکتاہوں۔ پی پی ایف (پبلک پروویڈنٹ فنڈ)، کے تحت کمپنی کچھ فنڈ کاٹتی ہے جو کہ ہمیں ہماری نوکری کے اخیر میں ملے گا کمپنی کی طرف سے کچھ عطیات کے ساتھ۔ اس میں رضاکارانہ طور پر پروویڈنٹ فنڈ میں کچھ اضافہ کرنے کا اختیار ہوتا ہے جس کو وی پی ایف (رضاکارانہ پروویڈنٹ فنڈ) کہا جاتا ہے ۔کیا ہم اپنا پیسہ وی پی ایف کے ذریعہ سے بچاسکتے ہیں؟

    جواب نمبر: 10403

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 383=33/د

     

    یوایل آئی پی کی وضاحت کریں، نیز میوچول فنڈ کی جو اقسام لکھی ہیں، ان میں سرمایہ کاری کا طریق کار کیا ہے اور یہ کمپنیاں سرمایہ کن جگہوں میں لگاکر کاروبار کرتی ہیں؟ نیز نفع و نقصان میں شرکت کا طریق کار کیا ہے؟ پوری وضاحت کرکے سوال کریں۔

    جہاں تک ایل آئی سی اور وی پی ایف کا معاملہ ہے تو ایل آئی سی سود وقمار پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز وحرام ہے، زاید ملنے والی رقم اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں ہے، اس لیے اس سے احتراز کریں۔ وی پی ایف میں بھی اصل کٹوائی ہوئی رقم سے زائد جو رقم ملے گی اس کا استعمال کرنا ناجائز ہے، بلانیت ثواب صدقہ کرنا واجب ہے۔ البتہ پی پی ایف میں جو رقم غیراختیاری طور پر گورنمنٹ کاٹ لیتی ہے آپ کی تحویل وقبضہ میں آتی ہی نہیں ایسی رقم پر جو اضافہ ملے گا وہ گورنمنٹ کی طرف سے عطیہ ہے، اس کا استعمال کرنا جائز ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند