• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 9167

    عنوان:

    اگر کوئی رشتہ دار یا دوست گروی کے گھر میں ہے تو کیا اس گھر میں جا سکتے ہیں یا نہیں؟ (۲)کوئی کچھ چیز کھانے کے لیے کہے اوراس کا مال حرام ہو تو کیا حکم ہے، اورمشکوک مال ہو تو کیا حکم ہے، اور اس مال کے بارے میں علم نہ ہو کہ حلال ہے یا حرام تو اس کا کیا حکم ہے؟ (۳)حرام اورمشکوک مال سے بچنے کے لیے جھوٹ بول کر بہانہ بناسکتے ہیں یا نہیں؟ اور اگر بہانے سے بھی نہ بچ سکیں اور کھا لیں، تو کیا حکم ہے؟

    سوال:

    اگر کوئی رشتہ دار یا دوست گروی کے گھر میں ہے تو کیا اس گھر میں جا سکتے ہیں یا نہیں؟ (۲)کوئی کچھ چیز کھانے کے لیے کہے اوراس کا مال حرام ہو تو کیا حکم ہے، اورمشکوک مال ہو تو کیا حکم ہے، اور اس مال کے بارے میں علم نہ ہو کہ حلال ہے یا حرام تو اس کا کیا حکم ہے؟ (۳)حرام اورمشکوک مال سے بچنے کے لیے جھوٹ بول کر بہانہ بناسکتے ہیں یا نہیں؟ اور اگر بہانے سے بھی نہ بچ سکیں اور کھا لیں، تو کیا حکم ہے؟

    جواب نمبر: 916701-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 2091=1922/ د

     

    (۱) گروی کے گھر میں رہنے سے کیا مراد ہے؟ راہن نے دیا ہے یا مرتہن نے؟ اجارہ پر دیا ہے یا اعارہ پر؟ وضاحت کریں!

    (۲) حرام ہونا یقینی طور پر معمول رہا اور اس کی ٹوٹل آمدنی حرام کی ہے تو ایسے شخص کی چیز کھانا جائز نہیں ہے۔ مشکوک میں احتیاط کرلینا بہتر ہے، بوقت ضرورت کھا لینے کی گنجائش ہے۔ حلال وحرام کے اسباب ظاہر نہ ہوں، تو تحقیق واجب نہیں ہے۔

    (۳) کوئی ایسا عذر تلاش کرے جو صریح جھوٹ نہ ہو تو گنجائش ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند