• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 8185

    عنوان:

    میں سعودی عربیہ میں ایک کمپنی میں سول انجینئر کے طور پر کام کرتا ہوں اور ہماری کمپنی میں کار لون کے لیے ایک پالیسی ہے لیکن یہ لون بینک کے ذریعہ سے فائنانس کیا جائے گا اوربینک سود لے گا۔ لیکن یہ سود ہماری کمپنی کے ذریعہ سے ادا کیا جائے گا نہ کہ میرے ذریعہ۔ مثلاً اس وقت میرے پاس کار نہیں ہے اور کمپنی مجھے چار سو سعودی ریال الاؤنس دیتی ہے اوراگر میں ساڑھے سات ہزار سعودی ریال کی قیمت کی نئی کار خریدنا چاہوں گا تو مجھے کمپنی سے لون کے لیے درخواست دینی ہوگی اس کے بعد کمپنی بینک سے اس لون کا انتظام کرے گی اور اس کے بعد کمپنی بینک کو یہ لون ادا کرے گی ساٹھ ماہانہ قسطوں میں بشمول سود کے۔یعنی کمپنی یہ تمام قسطوں کو ادا کرے گی نہ کہ میں۔ لیکن اگر میں ساٹھ ماہ سے پہلے اس کمپنی کو چھوڑ دوں گا تو اس صورت میں یہ رقم مجھے مع سود کے ادا کرنی ہو گی۔ مجھے بتائیں کہ کیا اس طرح کے کار کے لون کا طریقہ حلال ہے یا حرام؟

    سوال:

    میں سعودی عربیہ میں ایک کمپنی میں سول انجینئر کے طور پر کام کرتا ہوں اور ہماری کمپنی میں کار لون کے لیے ایک پالیسی ہے لیکن یہ لون بینک کے ذریعہ سے فائنانس کیا جائے گا اوربینک سود لے گا۔ لیکن یہ سود ہماری کمپنی کے ذریعہ سے ادا کیا جائے گا نہ کہ میرے ذریعہ۔ مثلاً اس وقت میرے پاس کار نہیں ہے اور کمپنی مجھے چار سو سعودی ریال الاؤنس دیتی ہے اوراگر میں ساڑھے سات ہزار سعودی ریال کی قیمت کی نئی کار خریدنا چاہوں گا تو مجھے کمپنی سے لون کے لیے درخواست دینی ہوگی اس کے بعد کمپنی بینک سے اس لون کا انتظام کرے گی اور اس کے بعد کمپنی بینک کو یہ لون ادا کرے گی ساٹھ ماہانہ قسطوں میں بشمول سود کے۔یعنی کمپنی یہ تمام قسطوں کو ادا کرے گی نہ کہ میں۔ لیکن اگر میں ساٹھ ماہ سے پہلے اس کمپنی کو چھوڑ دوں گا تو اس صورت میں یہ رقم مجھے مع سود کے ادا کرنی ہو گی۔ مجھے بتائیں کہ کیا اس طرح کے کار کے لون کا طریقہ حلال ہے یا حرام؟

    جواب نمبر: 8185

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 2081=1596/ب

     

    جب آپ کو سود لینے دینے سے کوئی تعلق نہیں ہے تو اس طرح کار خریدنے میں کوئی حرج نہیں۔ بشرطیکہ اس مدت تک آپ کا ملازمت کرنے کا ارادہ ہو، جس میں بینک کی قسطیں کمبنی پوری ادا کرچکے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند