• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 66269

    عنوان: قرض اور دین میں فرق

    سوال: سوال:منسلک کردہ سوال ایک خاتون کی جانب سے قرضے سے متعلق ہے ۔برائے مہربانی قرآن وسنت کی روشنی میں جواب دیں۔ میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرے شوہر نے اپنے بھائی سے دو لاکھ روپے قرض لیے ہیں یہ روپیہ ہمیں دوسرے بھائی کے ہاتھ سے ملے ہیں یعنی جس نے رقم دی ہے وہ ملک سے باہر ہے اس لیے رقم اس نے چھوٹے بھائی کے ہاتھ دلوائی ہے تا کہ واپسی ممکن ہو ۔ اس رقم کی واپسی کی کوئی حتمی تاریخ نہیں ہے صرف فروری 2015 سے ہمیں چھ ہزار روپے مہینہ چھوٹے بھائی کو اد اکرنے ہیں تا وقتیکہ دو لاکھ کی رقم اد ا ہو جائے ۔رقم کی ادائیگی میں تو نہیں مگر واپسی کے لیے میرے چھوٹے دیور نے مجھ سے زبانی اقرار کروایا ہے کہ چھ ہزار کی رقم ہر ماہ وہ مجھ سے لے گا۔اس سلسلے میں میری ساس بھی بطور گواہ تھی مگر تحریری طور پر کوئی دستاویز نہیں ہے ۔ہم نے کچھ رقم گاڑی (کار جو میرے بھائی کی ملکیت تھی ) بیچ کر جمع کی اور سب رقم جمع کر کے بھائی روَف نے لے لی ہے تا کہ Booking اور پک اینڈ ڈراپ یعنی لے جانے اور لانے پر گاڑی چلا کر کچھ اضافی رقم کمائی جا سکے ۔ میرا سوال یہ ہے کہ یہ سارا معاملہ صرف زبانی ہے تحریری نہیں ۔ اس میں اصل فریق وہ ہو گا جس کے ذریعے ہم نے رقم لی ہے یا دوسرا بھائی اور دوسرا یہ کہ میں نے زبانی اقرار کیا ہے کہ میں پیسے قسط کے ادا کرنے کی پابند ہوں جبکہ ایسا ممکن ہوتا نظر نہیں آ رہا کیونکہ گاڑی ابھی تک کہیں پک اینڈ ڈراپ پر نہیں لگی تو اگر میں ادائیگی میں تاخیر کروں تو گناہ گار ہوں گی؟ تحریری دستاویز لکھنے کے لیے نہ میرے شوہر تیار ہیں نہ ان کا چھوٹا بھائی تو کیا یہ صحیح ہے ؟نیز میرے بھائی کی جو مجھ پر واجب الادا ہے اس کی بھی کوئی تحریری دستاویز نہیں ہے مگر بھائی نے کہا ہے کہ جب تمھارے پاس ہو دے دینا یہ بھی ایک بڑی رقم ہے کیا اس کے لیے بھی تحریر کرنا ضروری ہے ؟ البقرة 282 کی روشنی میں برائے مہربانی میرے ان سوالوں کا جواب دے دیں اور قرض کے معاملات تحریر نہ کرنے پر ہم کتنے گناہ گار ہیں؟ الجواب باسم ملھم الصواب أحمدہ و اصلی علی رسولہ الکریم ،اما بعد: قرض کے لین دین میں کسی کو اس پر گواہ بنانا چاہیے اور اگر کسی کو گواہ نہیں بنایا اور بعد میں وہ انکاری ہوگیا تو عند اللہ تو وہ مأخوذ ہوگا لیکن دنیا میں اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوسکتی ۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کے احکام صاف بیان فرمادیے ہیں ۔چنانچہ ارشاد ہے : یَاأَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ إِلَی أَجَلٍ مُسَمًّی فَاکْتُبُوہُ۔۔۔ وَاسْتَشْہِدُوا شَہِیدَیْنِ مِنْ رِجَالِکُمْ(البقرة: 282)ترجمہ :“اے ایمان والوں جب تم آپس میں ایک دوسرے سے میعاد مقرر پر قرض کا معاملہ کروتواُسے لکھ لیا کرو۔اور اپنے میں سے دو مرد گواہ رکھ لو۔” اس آیت میں ایک اصول تو یہ بتلا دیا کہ ادھار کے معاملات کی دستاویز لکھنی چاہیے تاکہ بھول چوک یا انکار کے وقت کام آئے ۔ دوسرا اصول یہ بیان فرمایا کہ اس تحریری معاملے پر گواہ بھی بنا لئے جائیں تاکہ اگر کسی وقت باہمی نزاع پیش آجائے تو عدالت میں ان گواہوں کی گواہی سے فیصلہ ہوسکے ۔تحریری دستاویز میں جس بھائی نے رقم دی ہے اور جس بھائی کے ذریعے دی ہے دونوں کا تذکرہ ہوگا پہلے والے کا بطور موٴکل اور دوسرے والے کا بطور وکیل کے ۔زبانی اقرار کی پابندی کرنا بھی شرعا ً لازم ہے اور بلاعذر اس کی خلاف ورزی کرنا جائز نہیں ۔سائلہ نے اپنے بھائی سے جو رقم لی ہے اسے بھی باضابطہ تحریر کرنا مناسب ہے ۔واضح رہے کہ گواہان دو ہونے چاہئیں اور وہ بھی مردوں میں سے نہ کہ خواتین میں سے مزید یہ کہ اس قرض کے معاہدے کو تحریر کرتے ہوئے ادائیگی کی ممکنہ تاریخ لازما ً درج کی جائے ۔بالفرض اگر اس تاریخ پر قرض کی ادائیگی ممکن نہ ہو تو دوبارہ معاہدے کی تجدید باہمی رضامندی سے نئی تاریخ کے ساتھ کر لی جائے ۔واضح رہے کہ وقت کے بڑھنے گھٹنے سے رقم میں کوئی اضافہ ہر گز جائز نہیں ۔اصل حیثیت تعین میعاد اور دو گواہان ِ ذکور کی ہے ۔اگر آپ آغاز معاہدے کے موقع پر اُسے تحریر نہ کر پائے ہوں تو اب بھی اسے تحریر میں لایا جاسکتا ہے ۔نیز نہ ماننے والوں کو قرآن ِ حکیم کی مذکورہ آیت کے ذریعے ترغیب کروائی جائے ۔ مفتی صاحب مذکورہ سوال کے جواب کو ایک مفتی صاحب نے یہ کہہ کا رد کردیا کہ قرض اوردین میں فرق ہے ۔ قرآن مجید میں دین کا معاملہ زیرِ بحث ہے قرض کا نہیں جبکہ مستفتی نے قرض کا حکم پوچھا ہے دین کا نہیں۔ دین تو تاجیل سے مؤجل ہوجاتا ہے قرض نہیں۔ اگر قرض میں تاجیل صحیح ہو تو پھر تو ربا ہوجائے گاکیونکہ مقرض نے دو لاکھ روپے اب دیا ہے اور مستقرض دو لاکھ روپے بعد میں دے رہا ہے اور ایک جنس کی صورت میں مثلا بمثل یدا بید کا حکم ہے ۔ اس لیے فقہاء نے لکھا ہے یتأجل الدین بالتاجیل لا للقرض۔ یعنی دین مؤجل کرنے سے مؤجل ہوجاتا ہے لیکن قرض تاجیل سے مؤجل نہیں ہوتا ورنہ ربا ہوجائے گا۔ چنانچہ مقرض نے جس وقت قرض دیا اسی وقت سے اس کو مطالبہ کا حق ہے ۔ لہذا جواب دو بارہ لکھا جائے ۔ اس جواب کی روشنی میں آپ سے یہ سوال ہے کہ قرض اور دین میں کیا فرق ہے ۔ اور اگر فرق ہے تو اس سے احکام میں عملاً کیا فرق واقع ہوگا۔ کیا کوئی ایسی کتاب ہے جس میں قرض اور دین کے فرق اور شرائط کو علیحدہ بیان کیا گیا ہو؟

    جواب نمبر: 66269

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1156-1096/L=10/1437 دین اور قرض میں کوئی قابل لحاظ فرق نہیں ہے، بس اتنا ہے کہ دین عام ہے اور قرض خاص، اس فرق کی وجہ سے مذکورہ حکم میں کوئی اثر نہیں پڑے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند