• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 63773

    عنوان: بیسی / کمیٹی کی شرعی حیثیت اور اس كی شكلیں

    سوال: ایک مسئلہ معلوم کرنا تہا کہ ہم چند دوست ہیں . ہم آپس میں کمیٹی ڈالتے ہیں. ہم میں سے ایک دوست کو ہم نے کمیٹی کا نگران /منتظم بنایا ہوا ہے جس کے پاس ہم کمیٹی کی اقساط کی رقم جمع کراتے ہیں . اب اس نے یہ کرنا شروع کردیا ہے کہ جب ہر 6 ماہ بعد کسی بہی ممبر کا نام قرعہ میں نکلتا ہے اور اس کو کمیٹی کی جمع شدہ رقم ملنی ہوتی ہے تو وہ نگران /منتظم اس رقم میں سے 500 روپے کاٹ لیتا ہے . مثلا 10000 روپے میں سے 9500 روپے دیتا ہے . ہم نے اعتراض کیاتو اس نے کہا کہ میں تم لوگوں کو قسطوں کی ادائیگی کرنے کی یاددہانی کرانے کے لیے موبائل سے کال کرتا ہوں، میسج کرتا ہوں نیز کبھی تم میں سے کوئی مجہے کسی جگہ یا اپنے گہر بلوا کر قسط کی رقم دیتا ہے تو ان سب میں میرے پیست خرچ ہوتے ہیں لہذا میں وہ پیسے مشترکہ طور پر مجموعی رقم میں سے وصول کررہا ہوں تاکہ سب سے برابر وصول ہوجائے . تو اب پوچھنا یہ کہ کیا اسکا یہ کرنا اور اس طرح پیسے وصول کرنا صحیح ہے ؟ ؟؟ اگر نہیں تو درست طریقہ کیا ہوسکتا ہے ؟ ؟؟ کیونکہ جو وجہ اور دلیل اس نے دی ہے وہ سچ اور صحیح ہے . وہ کال بھی کرتا ہے نیز ہمارے بلانے پر آتا بھی ہے اگر ہم خود کسی وجہ سے قسط کی رقم ادا کرنے اس کے پاس نہ آسکیں . نیز یہ بھی بتایئے کہ کمیٹی کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟؟؟ . جزاک اللہ .

    جواب نمبر: 6377301-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 374-80/D=5/1437 اس منتظم کا پانچ سو روپے کاٹنا جائز نہیں اس میں رشوت اور سود کا شائبہ ہے اور ظلم ہے، تفصیل اس کی یہ ہے کہ تعاون باہمی سے روپے جمع کرنا اور جس کا نام پہلے نکل آئے اسے مجموعی رقم دیدینا یہ عمل ہرماہ کرنا جس میں کسی کا نمبر پہلے آتا ہے اور کسی کا بعد میں، نیز کسی کو رقم پہلے مل جاتی ہے اور وہ قسطیں بعد میں ادا کرتا رہتا ہے اور کوئی قسطیں بعض یا کل ادا کرچکتا ہے اس کے بعد اسے روپئے ملتے ہیں ان سب باتوں پر سب شرکاء راضی ہوتے ہیں، اس لیے یہ پورا معاملہ باہمی تعاون تبرع (احسان) اور ایثار کے زمرہ میںآ تا ہے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں شرافت اور اخلاقی تقاضوں کا نتیجہ ہے، لہٰذا آدمی کو روپیہ کا تقاضا کرنے جانا پڑا اس کے لیے فون کرنا پڑا روپے لینے کسی کے گھر جانا ہوا یہ سب باتیں تبرع کے قبیل سے ہیں ان کا کوئی معاوضہ پہلے سے طے کئے بغیر نہیں ہوسکتا، البتہ اس صورت میں یہ کام بھی لائق معاوضہ بن سکتے ہیں، اور ان پر معاوضہ (اجرت لینا) جائز ہوسکتا ہے۔ جب کام کے آغاز ہی میں یہ طے کرلیا جائے کہ رقم کو وصولیابی اور یاددہانی کے لیے جو شخص محنت کرے گا اور اس ذمہ داری کو قبول کرے گا اسے ممبر بطور حق الخدمت کے اتنی رقم دے گا، واضح رہے کہ اس رقم (حق المحنت) کی مقدار متعین ہونی چاہیے اور اس کے بدلے لازمی کام بھی متعین اور معلوم ہونے چاہئیں اور سب فریق باہمی رضامندی اور خوش دلی سے اس کے لیے تیار ہوں نیز یہ رقم اصل ماہانہ جمع کی جانے والی رقم سے الگ ہونا چاہیے، پس صورت مسئولہ میں نہ تو تمام ممبروں نے ناظم صاحب کو مذکورہ کاموں کا اجیر مقرر کیا نہ ہی اجرت طے ہوئی نہ ہی اجرت الگ سے دی گئی بلکہ ماہانہ جمع کی جانے والی رقم میں سے زبردستی سابقہ کسی معاملہ کے بغیر کاٹ لی گئی جو کہ ظلم ہے اور اس میں شائبہ رشوت وربا بھی ہے۔ (۲) سب ممبر مساوی طور پر رقم جمع کریں پھر قرعہ کے ذریعہ جس کا نام نکل آئے اسے پوری رقم دیدی جائے پھر اسی طرح اگلے مہینہ ہو جس کا نام نکل چکے وہ بھی اخیر تک ہرماہ رقم ادا کرتا رہے گا۔ کمیٹی کی یہ شکل جائز ہے یہ امداد بالقرض اور تعاونی باہمی کی ایک شکل ہے۔ اور اس کی ناجائز شکل یہ کہ (۱)جس کا نام نکل آئندہ کے لیے اس سے رقم ساقط کردی جائے۔ (۲) ہرماہ مجموعی رقم کی نیلامی بولی جائے جو سب سے کم پر لینے کو تیار ہو اسے دیدی جائے اور بقیہ رقم سب شرکا پر تقسیم کردی جائے۔ (۳) تمام مہینوں میں ایک ممبر سے جتنی رقم لی جائے مجموعی طور پر اس سے کم رقم اسے دی جائے، یہ تینوں صورتیں کمیٹی کی ناجائز ہیں، ان میں بعض میں سود بعض میں سود وجوا دونوں بایا جاتا ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند