• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 62430

    عنوان: اکبر اور امجد دونو ں گہرے دوست تھے ، دونوں مل کر ایک اسکول اور ٹیوشن کا کام شروع کیااور طے شدہ معاہدہ کے تحت منافع لینا شروع کردیا۔ فروری 2004 سے مارچ 2009تک اکبر اپنے منافع کے حصے سے کم لیتا رہا اور باقی رقم امجد کی ضرورت کے پیش نظر اسے بطور قرضہ دیتا رہا جس کی مجموعی رقم 230000 روپے تک پہنچ گئی ، اسی دوران اکبر کی اسکول کے ایک ٹیچر سے رشتے کی بات طے ہونے لگی، جس کے نتیجے میں اکبر اور مذکورہ ٹیچر دیر تک اسکول اوقات میں باتوں میں مشغول میں رہتے ، جس سے اسکول کے ماحول میں خرابی پید ا ہونے لگی اورساتھ ہی اکبر کی کام میں دلچسپی کم ہونے لگی وہ ٹھیک سے کام کے اوقات میں وقت نہیں دیتا تھا، اس وجہ سے اکبر اور امجد کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے جس میں مذکورہ ٹیچر کابنیادی اور کلیدی کردار تھا اور آ خر اکبر سالانہ امتحان کے وقت 2009 میں کاروبار سے الگ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے اسکول کو زبردست نقصان پہنچتا ہے ، یہ الگ بات ہے کہ اکبر کاروبار سے اپنا حصہ طلب نہیں کرتا صرف مذکورہ وقت یعنی فروری 2004 سے مارچ 2009 تک امجد کو دیے گئے رقم کا مطالبہ کرتا ہے ۔

    سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین مند رجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ: اکبر اور امجد دونو ں گہرے دوست تھے ، دونوں مل کر ایک اسکول اور ٹیوشن کا کام شروع کیااور طے شدہ معاہدہ کے تحت منافع لینا شروع کردیا۔ فروری 2004 سے مارچ 2009تک اکبر اپنے منافع کے حصے سے کم لیتا رہا اور باقی رقم امجد کی ضرورت کے پیش نظر اسے بطور قرضہ دیتا رہا جس کی مجموعی رقم 230000 روپے تک پہنچ گئی ، اسی دوران اکبر کی اسکول کے ایک ٹیچر سے رشتے کی بات طے ہونے لگی، جس کے نتیجے میں اکبر اور مذکورہ ٹیچر دیر تک اسکول اوقات میں باتوں میں مشغول میں رہتے ، جس سے اسکول کے ماحول میں خرابی پید ا ہونے لگی اورساتھ ہی اکبر کی کام میں دلچسپی کم ہونے لگی وہ ٹھیک سے کام کے اوقات میں وقت نہیں دیتا تھا، اس وجہ سے اکبر اور امجد کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے جس میں مذکورہ ٹیچر کابنیادی اور کلیدی کردار تھا اور آ خر اکبر سالانہ امتحان کے وقت 2009 میں کاروبار سے الگ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے اسکول کو زبردست نقصان پہنچتا ہے ، یہ الگ بات ہے کہ اکبر کاروبار سے اپنا حصہ طلب نہیں کرتا صرف مذکورہ وقت یعنی فروری 2004 سے مارچ 2009 تک امجد کو دیے گئے رقم کا مطالبہ کرتا ہے ۔ اب ان تمام صورتحال میں جواب طلب مسائل درج ذیل ہیں: 1. کیا اکبر کی جانب سے دی گئی رقم قرض ہے ؟ شرعی طور پر قرض کے کس معیار پر ہے ؟ 2. امجد کا کہناہے کہ رقم چونکہ کاروبار سے ملنے والے حصے میں سے اکبر نے دیے تھے اس لیے واپس بھی اسی صورت میں کریگا جب باقی رہ جانے والے کاروبارسے فائدہ ہوگا اور بچت ہوگی، کیا امجد کایہ استدلال درست ہے ؟ 3. امجد کا یہ کہناہے کہ کاروبار ختم ہوگیا تو رقم واپس کرنے کا ذمہ دار نہ ہوگا۔شرعی طور پر اس کا اس طرح کہنا کیا درست ہے ؟ 4. امجد کا کہنا ہے :اگر ادائیگی کریگا تو بھی اتنی مدت میں کریگا جتنی مدت میں رقم لیا کرتا تھا۔شرعی طور پر اس کا اس طرح کہنا کیا درست ہے ؟ 5. مذکورہ صورتحال میں امجد پر قرض کی ادائیگی کی ذمہ داری کس قدر عائد ہوتی ہے ؟ 6. اکبر کے کاروبار سے الگ ہوتے وقت اپنا حصہ نہ لینا احسان کی صورت ہے یا نہیں؟ 7. اکبر کے 2009 میں کاروبار سے الگ ہونے کے بعد اب 2015 میں جاکرمذکورہ کاروبار اب جس مالک اکبر ہے اگرختم ہوجاتا ہے توکیا شرعی طور پر اس کی ذمہ داری اکبر پر عائد ہوتی ہے کہ نہیں ؟اگر ہوتی ہے تو امجد قرض اداکرنے کا ذمے دار ہے کہ نہیں؟ 8. اکبر نے چونکے کاروبار میں دلچسپی نہ لے کر اور مذکورہ ٹیچر کے ساتھ مل کر منفی رویہاختیار کرتے ہوئے کاروبار کو نقصان پہنچایاجب کہ اکبر خود کاروبار میں حصے دار ہے ،اس لیے امجد کا دعویٰ ہے کہ قرض ادا کرنے کی ذمے داری اس پر عائد نہیں ہوتی ۔شرعی طور پر اس دعوے کی کیا حثیت ہے ؟ 9. بار بار اور انتہائی ضرورت کے وقت اکبر کے مطالبے پر بھی امجد سنجیدگی سے قرض کی ادائیگی نہ کرے تو شریعیت کا اس پر کیا کہنا ہے ؟ 10. کیا قارض کی جانب سے قرض کی ادائیگی کا مطالبہ نہ کرنے پر مقروض اول یہ سمجھے کہ قارض کو پیسے کی ضرورت نہیں ہے اس لیے قرض کی ادائیگی بھی ضروری نہیں ہے ، دوم یہ کہ قارض مطالبہ نہیں کرتاتو میں (مقروض )کیوں فکر کروں؟ سوم یہ کہ قارض نے قرض معاف کردیا ہے تب ہی وہ مطالبہ نہیں کرتا۔شرعی طورپر ان مفروضات کی کیا حیثیت ہے ؟

    جواب نمبر: 62430

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 93-22/D=2/1437-U (۱) اکبر اور امجد دونوں نے مل کر جو کاروبار شروع کیا تھا اس میں شرکت کی کیا نوعیت تھی، کیا دونوں نے رقمیں اور سرمایہ بھی لگایا تھا یا شرکت وجوہ تھی، اگر سرمایہ لگایا تھا تو کس تناسب سے اول عمل کی ذمہ داری کس پر تھی، نیز نفع کا کیا تناسب طے تھے؟ (۲) معاہدہ کے مطابق جو منافع لینا طے تھا کیا اکبر نے اپنا نفع لے کر پھر امجد کو بطور قرض دیا تھا یا امجد نے اپنے حصے کے ساتھ کچھ رقم اکبر کے حصے کی اس کی رضامندی سے لی تھی؟ معاہدہ کی صحت وعدم صحت کا جواب تو مذکورہ تنقیحات پر موقوف ہے لیکن چوں کہ آپ نے اس بارے میں کوئی سوال نہیں کیا اس لیے ہم معاہدہ اور شرکت کو صحیح مان کر سوال میں مذکور امور کا جواب لکھتے ہیں۔ ۱) حاصل شدہ منافع میں جو حصہ اکبر کا تھا جب امجد نے اکبر کی اجازت سے بہ طور قرض واپس کرنے کے مقصد سے اسے لیا تھا تو امجد کے ذمہ وہ رقم واجب الاداء قرض ہے جو امجد کی طرف سے ادا کیے بغیر یا اکبر کی طرف سے معاف کیے بغیر ساقط نہیں ہوسکتا قال في الدر: القرض ما تعطیہ لتتقاضاہ وشرعا ما تعطیہ من مثلي لتتقاضاہ․ وفي موضع آخر: دین صحیح لا یسقط إلا بالقضاء أو الإبراء․ (الدر مع الرد: ۷/ ۳۸۸، ط: زکریا) ۲-۳) چونکہ قرض کی یہ رقم سابق میں کیے گئے کاروبار سے حاصل شدہ نفع کی ہے لہٰذا آگے کاروبار چلنے نہ چلنے سے اس کا تعلق نہیں ہے، امجد کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے۔ ۴-۵) ادائیگی کے لیے باہمی رضامندی سے میعاد طے کرسکتے ہیں، امجد جلد ادا کرنے کی کوشش کرے، اور اکبر اخلاقی اعتبار سے حسب سہولت اسے مہلت دیدے؛ لیکن بہرحال اکبر کو میعاد سے پہلے بھی اپنی رقم کے مطالبے کا حق حاصل رہے گا لأن التأجیل في القرض غیر لازم․ ۶) اگر اکبر کا استحقاق نفع میں ہوگیاتھا تو اسے چھوڑدینا اور امجد کی ضرورت کے پیش نظر اسے بطور قرض دیدینا یقینا احسان ہے۔ ۷) شرکت کے معاملہ میں ہرشریک کو یہ حق رہتا ہے کہ وہ جب چاہے دوسرے شریک کو اطلاع دے کر کاروبار سے علیحدہ ہوجائے اگر اس کے بعد کاروبار کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کی ذمہ داری علیحدہ ہونے والے شریک پر نہیں ہے۔ ۸) اکبر نے کس طرح کاروبار کو نقصان پہنچایا اور کیا منفی رویہ اختیار کیا، نقصان پہنچانے میں وہ مباشر تھا یا متسبب پھر متعمد تھا یا غیر متعمد غرض اس جز کو واضح کرنا چاہیے۔ ۹) باوجود وسعت کے مقروض کا قرض ادا نہ کرنا سخت معصیت ہے حدیث شریف میں اس کو ظلم قرار دیا گیا ہے۔ ۱۰) جب تک مقروض ادا نہ کردے یا قرض دہندہ صراحةً معاف نہ کردے، قرض ذمے سے ساقط نہیں ہوتا، لہٰذا یہ سب مفروضات غلط اور بے بنیاد ہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند