• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 62309

    عنوان: میں قطر میں رہتاہوں ، میں نے ہندوستان میں گھر بنایا ہے ، کیا میں وہ گھر کسی غیر مسلم کو کرایہ دے سکتاہوں؟

    سوال: میں قطر میں رہتاہوں ، میں نے ہندوستان میں گھر بنایا ہے ، کیا میں وہ گھر کسی غیر مسلم کو کرایہ دے سکتاہوں؟

    جواب نمبر: 62309

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 45-44/Sn=2/1437-U جی ہاں! دے سکتے ہیں، باقی اگر وہ اس میں پوجا پاٹ یا کوئی ناجائز کام کرے تو یہ اس کا عمل اس کی وجہ سے آپ سے مواخذہ نہ ہوگا البتہ کسی نیک و دیانت دار مسلمان کو دینا احوط وبہتر ہے۔ وإذا استأجر الذمی من المسلم دارًا یسکنہا فلا بأس بذلک، وإن شرب فیہا الخمر أو عبد فیہا الصلیب أو أدخل فیہا الخنازیر ولم یلحق المسلم فی ذلک بأس لأن المسلم لا یؤاجرہا لذلک إنما آجرہا للسکنی. کذا فی المحیط. اھ (ہندیہ: ۴/۴۵۰،ط: زکریا)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند