• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 611098

    عنوان:

    مالك كی اجازت كے بغیر دكان كسی اور كو كرایہ پر دینا

    سوال:

    سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے عمرو کو دکان کرایہ پر دیا اور یہ کہا کہ آگے اس کو کرایہ پر نہیں دوگے. زید نے وہ دکان آگے کم کرایہ پر دیا. آپ حضرات اس مسئلے کا شرعی حل بتا کر ممنون فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا

    جواب نمبر: 611098

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 998-777/D=09/1443

     عمر كرایہ دار كے لیے دكان آگے كسی اور كو كرایہ پر دینا جائز نہیں ہے جب كہ زیدنے آگے كسی كو كرایہ پر دینے سے منع كیا ہے۔

    قال في الشامي: والمستأجر ليس له أن يؤجر لغيره مركوبا كان أو ملبوساً إلا بإذن. (الدر مع الرد: 8/477)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند