• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 606038

    عنوان:

    قبل ازوقت ایک نجی تعلیمی ادارے سے چھٹیوں کی تنخواہ لینااوراسے اپنا حق تصور کرنا؟

    سوال:

    میں نے کئی سال پہلے ایک شخص کو سکول میں 4000ماہوار تنخواہ پر استاد رکھا۔چند ماہ گزرنے کے بعد اس نے تبلیغی بنیادپر حج کی جماعت میں جانے کا اصرار کیا اور واپس آنے کا کوئی تعین بھی نہیں کیااور بچوں کی سالانہ گرمیوں کی چھٹیوں (2ماہ )سے پہلے جانے لگا۔اس نے بچوں کو کورس بھی مکمل نہیں کرایاتھا اور نہ ہی ان کے امتحانی پرجہ جات تیار کیے تھے اور مہینہ پورا ہونے سے10دن پہلے جانے لگا۔اس کے باوجود میں نے مذکورہ شخص کو اس مہینے کی پوری تنخواہ ادا کی لیکن پھر وہ اگلے 2ماہ (گرمیوں کی چھٹیوں )کی تنخواہ بھی مانگنے لگا ۔میں نے اسے سمجھایا کہ اصولاً آپ کی اگلی تنخواہیں نہیں بنتیں ۔لیکن وہ میرے گھر آیااور پیسوں کا مطالبہ کرنے لگا۔مذکورہ شخص چونکہ تلخ مزاج تھا اس لیے اس وقت مصلحتاً (تلخی سے بچنے) میں نے اسے8000روپے بطورِاعانت(قرض) دے دیے۔حج کی جماعت سے واپسی کے بعد میں نے اس سے کئی سال بعد پیسوں کی واپسی کا مطالبہ کیا تو اس نے کہا کہ وہ تو میری چھٹیوں کی تنخواہ تھی ۔حالانکہ اس کے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا۔ نوٹ:نجی سکولوں میں یہ اصول ہوتا ہے کہ جواستاد گرمیوں کی چھٹیوں (2ماہ )کے بعد سکول آتا ہے اور اپنی ملازمت جاری رکھتا ہے تو اسے آئندہ ہرماہ کے ساتھ چھٹیوں کی ایک تنخواہ بھی دی جاتی ہے۔بصورتِ دیگر اس کو تنخواہ نہیں دی جاتی ۔چھٹیوں کی پیشگی تنخواہ کا تو کہیں بھی کوئی اصول نہیں۔ اس بارے میں شرعی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 606038

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 64-8T/B=02/1443

     آپ کے نجی اسکول میں پہلے سے جو قانون چلا آرہا ہے اس کے مطابق عمل کیجئے۔ اگر وہ استاذ دو ماہ کی چھٹیوں کے بعد اسکول نہیں آیا تو آپ کے اسکول کے قانون کے مطابق اسے تنخواہ نہ ملنی چاہئے۔ اور آپ نے استاذ کی تلخ مزاجی کی وجہ سے لڑائی اور جھگڑے سے بچنے کے لئے اگر قرض کی صراحت کرکے دو ماہ کی تنخواہ دی تھی تو آپ کو اس سے آٹھ ہزار روپئے مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند