• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 60220

    عنوان: چٹی ڈالنے کی یہ صورت کہ چند افراد مل کر آپس میں یہ معاہدہ کریں کہ ....

    سوال: میں ایک چٹی چلاتاہوں، قرعہ اندازی والا جس میں بننے والی رقم بھی پوری ہوتی ہے اور دینے والی رقم بھی پوری ہوتی ہے۔ ایک چٹی پہلے سے چل رہی ہے، لیکن ممبران کے پاس پیسے جاکر لینے میں میرے اپنے ذاتی پیسے لگ رہے ہیں، اس لیے چٹی والوں سے کچھ زیادہ پیسے وصول کرسکتے ہیں یا نہیں؟ اور ایک چٹی ڈالنے والا ہوں۔ آپ مجھے حدیث کی روشنی میں صحیح مشورہ دیں۔جزاک اللہ ۔

    جواب نمبر: 6022001-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 605-605/Sd=11/1436-U چٹی ڈالنے کی یہ صورت کہ چند افراد مل کر آپس میں یہ معاہدہ کریں کہ مثلاً ان میں سے ہرشخص ہرماہ ایک مقررہ رقم جمع کرے گا اور پھر یہ جمع شدہ رقم قرعہ کے ذریعے ان میں سے ایک شخص کو بطور قرض دیدی جائے گی اور وہ شخص آئندہ قسطوں کے ذریعے اپنا قرض ادا کردے گا، اس میں کسی بھی فرد پر سود یا اضافی رقم کی کوئی شرط نہ لگائی جائے، جو جتنی رقم جمع کرے، اس کو جلد یا دیر میں اتنی ہی رقم مل جائے؛ یہ شکل شریعت کی رو سے جائز ہے؛ اس لیے کہ اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص بیک وقت کئی اشخاص سے قرض حاصل کرتا ہے اور آئندہ قسطوں کی شکل میں وہ قرض کو لوٹاتا ہے؛ لیکن سوال میں جس شکل کے بارے میں آپ نے پوچھا ہے وہ مبہم اور غیرواضح ہے، چٹی والوں سے زیادہ پیسے وصول کرنے کی مکمل تفصیل وضاحت کے ساتھ لکھیں، اس کے بعد ہی اس شکل کے بارے میں کوئی حکم لکھا جاسکتا ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند