• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 57219

    عنوان: جائداد کے کام میں کیا چیز حلال ہے اور کیا چیز حرام ہے؟

    سوال: جائداد کے کام میں کیا چیز حلال ہے اور کیا چیز حرام ہے؟

    جواب نمبر: 57219

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 252-245/N=3/1436-U پراپرٹی کے کاروبار میں چند چیزیں اہم ہیں، ان کی رعایت کرنی چاہیے: (۱) آدمی کذب بیانی اور دھوکہ دہی وغیرہ سے مکمل پرہیز کرے۔ (۲) امامت ودیانت داری کے ساتھ کاروبار کرے۔ (۳) زمین کے تعلق سے بیجا ومفروضہ خوبیاں بیان نہ کرے۔ (۴) کسی ایسی چیز کا وعدہ نہ کرے جو اس کے بس سے باہر ہو؛ کیوں کہ یہ بھی ایک طرح کی دھوکہ دہی ہے۔ (۵) اگر پراپرٹی پر کوئی مقدمہ ہو تو خریدنے والے کے سامنے اس کی پوری وضاحت کردے، اس کو اندھیرے میں رکھ کر زمین فروخت کرنا یا کرانا درست نہیں؛ بلکہ ایسی زمینات کا کاروبار ہی نہ کرے، نیز دلالی بھی نہیں۔ (۶) مصلحت اس میں ہے کہ ایسی ہی زمین فروخت کرکے جس کے پختہ کاغذات اس کے پاس موجود ہوں تاکہ آگے مشتری کو ضرر عظیم لاحق نہ ہو۔ (۷) وقت مقررہ پر پورا پیسہ نہ ملنے پر جو بیعانہ ضبط کرنے کا رواج ہے وہ شرعاً غلط ہے؛ لہٰذا اس سے بھی بچے۔ (۸) کسی قسط کی ادائیگی میں اگر کچھ تاخیر ہوجائے تو سود نہ چڑھائے، البتہ حق وصول یابی کی جو جائز صورت ہوسکتی ہو اس کو اختیار کرنے میں کچھ حرج نہیں۔ (۹) کاروبار میں محض پیسے کمانے کا جذبہ کارفرما نہ ہو بلکہ دوسرے کی خیرخواہی بھی مد نظر رہنی چاہیے۔ مزید تفصیلات پراپرٹی کے کاروبار کی مختلف شکلیں لکھ کی معلوم کرسکتے ہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند