• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 50495

    عنوان: حقوق العباد کی تلافی کی صورت

    سوال: میں ایک وجہ سے بہت زیادہ پریشان ہوں، میں نے بہت سے بیانات سنے ہیں کہ حقو ق العباد وہ حق ہے اگر کسی کے ساتھ اس میں زیادتی ہوجائے تو قیامت کے دن آپ کی نیکیاں اس کو دے دی جائیں گی حتی کہ آپ کی نکیاں ختم ہوجائیں گی اور گناہ آپ کے سر ڈال دیا جائے گا ، میرے کچھ ایسے معاملات ہیں جس میں میں نے لوگوں کا حق مارا ہے پر مجھے اب سے ندامت ہوئی ہے ، میں نے اللہ سے سخت توبہ کی ہے اور میں راہ راست پر آیاگیا ہوں، میں نے حقو اللہ کی تو اللہ سے معافی مانگ لی ہے اور مجھے پوری امید ہے کہ اللہ معاف کردے گا پر میں حقو العباد کا کیا کروں جس نے مجھے صبح شام اس خیال میں ڈال رکھا ہے کہ میں جو عمل صبح سے شام تک کررہا ہوں ، سب ضائع ہوجائے گا ، لیکن جو غلطیاں مجھ سے پہلے ہوگئی ہیں اس کا کیا کفارہ ہے یا بچنے کا کوئی طریقہ ہے ؟جب کہ میں اللہ سے یہ دعا بھی مانگتاہوں کہ یا اللہ مجھ سے تو یہ پیسے جو لوگوں کو دینے ہیں اداکروادیجئے یا معاف کردے ، میں بہت پریشان ہوں، شرمندگی سے جا کر ان کو ان کے پیسے کیسے دوں؟ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔

    جواب نمبر: 50495

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 241-218/L=4/1435-U حقوق العباد کی تلافی کی صورت یہ ہے کہ آپ نے جن جن کے پیسے لیے ہیں انہیں کسی بھی طرح سے واپس کرنے کی کوشش کریں، اگر خود جاکر دینے میں شرمندگی ہو تو کسی کے واسطے سے ادا کردیں، نیز اگر آپ نے ناجائز طریقے پر کسی کی رقم لی ہو تواسے بتانے کی ضرورت نہیں کہ میں نے رقم اس طور پر لی تھی اگر آپ ہدیہ کہہ کر بھی اس کو رقم دیدیں گے اور دل میں نیت ادائیگی کی کرلیں گے تو بھی آپ بری الذمہ ہوجائیں گے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند