• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 49653

    عنوان: رهن

    سوال: اگر کوئی شخص ایک مکان کو مکمل طور پر رہن پر لے لے یا ایک رقم رہن کے طور پر اور ایک رقم اجارہ کے طور پر دیدے تو اس مسئلہ کا کیا حکم ہے؟

    جواب نمبر: 49653

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 250-47/B=2/1435-U مالک مکان کے پاس جو رقم بطور رہن رکھی جاتی ہے وہ رہن نہیں ہے بلکہ درحقیقت وہ رقم قرض ہی ہے اور مکان میں بلاکرایہ سکونت اختیار کرنا یہ قرض کی بنیاد پر بلاعوض منفعت حاصل کرنا ہے جو سراسر ناجائز اور سود ہے حدیث شریف میں آیا ہے کہ: ”کل قرض جر نفعًا فہو ربًا“ کہ ہروہ قرض جو اپنی طرف بلاعوض منفعت کھینچتا ہو وہ سود ہے۔ اسی طرح اگر کچھ رقم بطور قرض ہو اور کچھ رقم کرایہ کے طور پر ہو یہ صورت بھی پہلی صورت کی طرح ناجائز اور سود ہے، چنانچہ رد المحتار میں ہے کہ: وفي الخانیة رجل استقرض دراہم وأسکن المقرض في دارہ قالوا: یجب أجر المثل علی المقرض لأن المستقرض إنما أسکنہ في دارعہ عوضًا عن منفعة القرض لا مجّانًا وکذا لو أخذ المقرض من المستقرض حمارًا لیستعملہ إلی أن یرد علیہ الدراہم اھ․ وہذہ کثیرة الوقوع، واللہ تعالی أعلم․ رد المحتار ج۹ ص۸۷ مکتبہ زکریا دیوبند، اسی طرح رد المحتار میں ہے کہ: فائدة: قال في التاتار خانیة ما نصہ: ولو استقرض دراہم وسلّم حمارہ إلی المقرض لیستعملہ إلی شہرین حتی یوفیہ دینہ أو دارہ لیسکنہا فہو بمنزلة الإجارة الفاسدة إن استعملہ فعلیہ أجر مثلہ ولا یکون رہنًا․ رد المحتار ج۱۰ ص۸۷ مکتبہ زکریا دیوبند۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند