• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 4330

    عنوان:

    میں انڈین قومیت کی بنیاد پر بحرین میں ایک فرنیچر کمپنی میں تنخواہ دار ملازم ہوں۔ہم خوردہ فروش اور تھوک بیوپاری ہیں۔ میں تمام محکمہ کے مینیجر کے طورپر کام کررہاہوں۔ ہم بحرین کے باہر اور اندر سے فرنیچر درآمد کرتے ہیں۔ ایک مقامی فرنیچر بنانے والا ہے جس سے ہم بہت سالوں سے لین دین کررہے ہیں۔ ایک مرتبہ یہ مقامی فرنیچر بنانے والا آیااورمجھے یہ پیشکش کی کہ اگر میں صرف اسی کی دکان سے فرنیچر خریدوں تو وہ مجھے پانچ فیصد کمیشن دے گاپورے مہینہ کی بل کی قیمت کے مطابق۔۔۔۔۔۔؟

    سوال:

    میں انڈین قومیت کی بنیاد پر بحرین میں ایک فرنیچر کمپنی میں تنخواہ دار ملازم ہوں۔ہم خوردہ فروش اور تھوک بیوپاری ہیں۔ میں تمام محکمہ کے مینیجر کے طورپر کام کررہاہوں۔ ہم بحرین کے باہر اور اندر سے فرنیچر درآمد کرتے ہیں۔ ایک مقامی فرنیچر بنانے والا ہے جس سے ہم بہت سالوں سے لین دین کررہے ہیں۔ ایک مرتبہ یہ مقامی فرنیچر بنانے والا آیااورمجھے یہ پیشکش کی کہ اگر میں صرف اسی کی دکان سے فرنیچر خریدوں تووہ مجھے پانچ فیصد کمیشن دے گاپورے مہینہ کی بل کی قیمت کے مطابق۔ اس کی شرط صرف اس کی دکان سے فرنیچر خریدنے کی تھی نہ کہ دوسری کسی اور کمپنی سے، اور نیز اس کی قیمت دوسرے کے مقابلہ میں کم ہے کیوں کہ وہ فرنیچر بنانے والا ہے۔ اس کے بعد میں نے ایک اسلامی عالم سے سوال پوچھا کہ کیا میں یہ کمیشن لے سکتا ہوں؟انھوں نے کہا کہ آپ اپنے مالک کی اجازت سے یہ کمیشن لے سکتے ہیں، بعد میں میں نے اپنے مالک سے اجازت مانگی۔ میں نے یہ کہتے ہوئے اجازت حاصل کر لی کہ یہ آپ کے لیے حلال ہے اوریہ اللہ کی طرف سے آپ کے لیے رزق ہے۔ اس کے بعد میں نے ہر مہینہ کمیشن لینا شروع کیا۔ چونکہ میری تنخواہ کم تھی اس لیے میں نے چند مہینہ کے بعد اپنے مالک سے تنخواہ بڑھانے کی درخواست کی۔ اس نے کہا کہ اب آپ ہر مہینہ کمیشن پاتے ہیں اس لیے تنخواہ کابڑھانا ممکن نہیں ہے۔ میری نیت تنخواہ بڑھوانے کی تھی کیوں کہ کمیشن یقینی نہیں ہے اور میں کمیشن پر بھروسہ نہیں کرسکتا ہوں اسی وجہ سے میں نے تنخواہ میں اضافہ کے لیے کہا،تاکہ میری آگے کی زندگی اچھی گزرے۔ اپنی تنخواہ بڑھانے کے لیے میں نے مالک سے کہا کہ میں کمیشن نہیں لے رہا ہوں جب کہ میں کمیشن لے رہا تھا، کیوں کہ اس وقت اس کے علاوہ تنخواہ بڑھوانے کے لیے اور کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا، اس لیے میں نے جھوٹ بولا،لیکن یہ میری نیت نہیں تھی، اس کے بعد مہینہ آیا تومالک نے کہا کہ جزاک اللہ الخیر میں تمہاری تنخواہ کے بارے میں سوچوں گا مجھے وقت دو میں استخارہ کروں گا۔ چند دنوں کے بعد میری تنخواہ بڑھادی گئی۔ نیز میں نے ہر ماہ پانچ فیصد کمیشن لینا بھی جاری رکھا۔ چار پانچ سال کے بعد میں نے اپنی فیملی کے لیے ایک بہترین رہائش کی درخواست کی۔ چونکہ یہاں کرائے بہت زیادہ ہیں اور ہمیں قاعدہ کے مطابق مکان الاؤنس نہیں ملتاہے۔ ایک مرتبہ انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ ماہانہ کتناپاتے ہیں تومیں نے ان سے اپنی حقیقی تنخواہ بتادی جوکہ وہ مجھے دے رہے تھے، میں نے دوبارہ ان کو اس کمیشن کے بارے میں نہیں بتایا جومیں لے رہا تھا،کیوں کہ صرف میں نے ایک ہی مرتبہ ان سے اجازت لی تھی۔ تنخواہ جاننے کے بعد انھوں نے رہائش دینے کا فیصلہ کیا ،لیکن ہمیشہ میرے ذہن میں ایک بے چینی سی رہتی ہے کہ کیا میں صحیح کررہا ہوں یا غلط ،یا مجھے مالک کو دوبارہ مطلع کرنا چاہیے کہ میں کمیشن لے رہا ہوں، کیوں کہ اجازت دینے کے چار پانچ سال کے بعد وہ بھول گئے ہوں گے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ سوچ رہے ہوں کہ میں کمیشن نہیں لے رہا ہوں، کیوں کہ بہت پہلے میں نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ میں کمیشن نہیں لے رہا ہوں جیسا کہ اوپر مذکورہوا۔ نیز میں خوف زدہ ہوں کہ اگر میں دوبارہ پوچھوں گا تو ہوسکتا ہے وہ مجھے کمیشن لینے سے منع کردے یا ہوسکتا ہے کہ دوبارہ پوچھنا میری غلطی ہو جب کہ اس نے ایک مرتبہ مجھے اجازت دے دی ہے۔ نیز یہ بات مجھ کو پریشان کررہی ہے کہ میں نے اس کو تنخواہ میں اضافہ کے وقت کیوں نہیں مطلع کیا۔ اب اگر میں اس سے اجازت مانگوں گا تو وہ مجھ سے متعد دسوال کرے گا، کیوں کہ وہ بہت شکی شخص ہے۔ وہ کہہ سکتا ہے کہ اپنی تنخواہ میں اضافہ سے پہلے تم نے جھوٹ بولا اور نیز جب میں نے مکان کے بارے میں پوچھا اس وقت تم نے صرف اپنی تنخواہ کی اصل رقم بتائی اور کمیشن کے بارے میں مجھے نہیں بتایا۔ اب مجھے بتائیں کہ میں آگے کیا کروں؟ کیا میں کمیشن لینا جاری رکھوں یا مجھ کو مالک سے دوبارہ اجازت لینی پڑے گی ، یا پہلی مرتبہ کی اجازت میرے لیے کافی ہے؟ میں اپنے آپ کو حرام سے بچانا چاہتا ہوں۔ برائے کرم میری مدد کریں اور میرے سوال کا ایک اسلامی حل بتائیں۔

    جواب نمبر: 4330

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 798=850/د

     

    پہلی مرتبہ جب اپنے مالک کی اجازت کے بعد آپ نے کمیشن لینا شروع کیا تو مالک کی اجازت ہونے کی وجہ سے اس کے لینے کی آپ کے لیے گنجائش تھی، لیکن جب کمیشن لینے کی بنا پر انھوں نے تنخواہ بڑھانے سے انکار کیا پھر آپ نے غلط بیانی کردی کہ میں کمیشن نہیں لے رہا ہوں جس سے آپ کی تنخواہ بڑھ گئی، پھر چند سالوں کے بعد مکان کا انتظام بھی ہوگیا، تو جب سے آپ نے غلط بیانی کی کمیشن لینے کے سلسلہ میں، اس وقت سے آپ کا کمیشن لینا ناجائز ہوا۔ آپ کے ذمہ اس مدت کی مجموعی حاصل کردہ رقم بنام کمیشن غرباومساکین پر صدقہ کرنا واجب ہے اور آئندہ کے لیے لینا بند کردیں۔ البتہ اگر مناسب سمجھیں اور دوبارہ کمیشن لینے کی اجازت مالک سے حاصل کرلیں توآئندہ کے لیے بعد اجازت لینا جائز ہوسکتا ہے، لیکن پچھلی لی ہوئی رقم کا حکم تو وہی رہے گا جو اوپر لکھا گیا یعنی اس کا صدقہ کرنا واجب ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند