• معاملات >> دیگر معاملات

    سوال نمبر: 3808

    عنوان:

    میں مرکزی حکومت کے ایک شعبہ میں ملازمت کررہاہوں، یہاں رشوت لینا عام بات ہے۔ میری بیوی ایک مذہبی خاندان سے تعلق رکھتی ہے، اس کی مدد اور رہ نمائی سے میں اس گناہ سے بچنے کی کوشش کررہاہوں، لیکن بعض دفعہ مالی تنگی کے باعث میں رشوت لے لیتاہوں۔ بہر حال خشیت الہی کی وجہ سے اس حرکت سے تقریبا رک گیاہوں۔ براہ کرم، اس سلسلے میں میر ی میزید رہ نمائی فرمائیں تاکہ میں ہمیشہ کے لیے اس سے نجات پاجاؤں اور اس سے نفرت کرنے لگوں۔

    سوال:

    میں مرکزی حکومت کے ایک شعبہ میں ملازمت کررہاہوں، یہاں رشوت لینا عام بات ہے۔ میری بیوی ایک مذہبی خاندان سے تعلق رکھتی ہے، اس کی مدد اور رہ نمائی سے میں اس گناہ سے بچنے کی کوشش کررہاہوں، لیکن بعض دفعہ مالی تنگی کے باعث میں رشوت لے لیتاہوں۔ بہر حال خشیت الہی کی وجہ سے اس حرکت سے تقریبا رک گیاہوں۔ براہ کرم، اس سلسلے میں میر ی میزید رہ نمائی فرمائیں تاکہ میں ہمیشہ کے لیے اس سے نجات پاجاؤں اور اس سے نفرت کرنے لگوں۔

    جواب نمبر: 3808

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 367/ ل= 345/ ل

     

    مسلمان کے لیے رشوت لینا حرام ہے، حدیث شریف میں ایسے شخص پر لعنت کی گئی ہے: عن عبد اللہ بن عمرو قال: لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الراشي والمرتشي یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت لینے والے اور رشوت دینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند